مسعود پیزشکیان ’دوست اور ہمسایہ‘ ممالک کے رہنماؤں کو پیغام بھیجا ہے جس کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے پس منظر میں ان کے ممالک پر کیے گئے حملوں کا جواز پیش کرنا تھا۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق پیزشكيان نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ایران نے جنگ سے گریز کے لیے آپ کے ساتھ اور سفارتکاری کے ذریعے کوشش کی لیکن امریکی، اسرائیلی عسکری جارحیت نے ہمیں اپنے دفاع کے سوا کوئی راستہ نہ چھوڑا۔
ایرانی صدر نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ تہران ’آپ کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے‘ اور خطے کی ’امن و استحکام کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں‘۔
یہ پیغام اس امریکی، اسرائیلی جنگ کے پانچویں دن آیا، جو 28 فروری سے جاری ہے اور اس میں فضائی حملوں کے دوران متعدد ایرانی حکام ہلاک ہوئے، جن میں اعلی رہنما علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔
ایران نے انتقامی کارروائیوں میں ڈرون اور بیلسٹک میزائلز کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل، امریکی اڈوں اور مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک کو نشانہ بنایا۔
أصحاب الجلالة، رؤساء الدول الصديقة والجارة، سعينا معكم وعبر الدبلوماسية لتجنّب الحرب، لكن العدوان العسكري الأمريكي-الصهيوني لم يترك لنا خياراً سوى الدفاع عن أنفسنا. نحترم سيادتكم، ونؤمن بأن أمن المنطقة واستقرارها يجب أن يتحقق بجهود دولها مجتمعة.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) March 4, 2026
ایران کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، عمان، کویت، اردن اور عراق سمیت خلیجی اور خطے کے دیگر ممالک پر اس کے ڈرون اور میزائل حملے ’مستحقانہ جواب‘ ہیں، جو امریکی، اسرائیلی آپریشن کے ردعمل میں کیے گئے ہیں اور وہ قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود فوجی اڈوں کو اپنے خلاف جارحیت کے آغاز کا مرکز سمجھتا ہے۔
دوسری طرف زیادہ تر خلیجی ممالک اور متاثرہ ممالک نے سرکاری بیانات میں ان حملوں کو ’غدارانہ جارحیت‘ اور ’خودمختاری کی صریح خلاف ورزی‘ قرار دیا، شہریوں اور عالمی توانائی کی سپلائی کے خلاف جان بوجھ کر کیے گئے حملے قرار دیے اور اپنے حقِ دفاع اور اپنی زمین و اہم تنصیبات کے تحفظ پر زور دیا۔