محب اللہ قاسمی
نئی دہلی
رمضان المبارک محض روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ نزولِ قرآن کی عظیم نعمت پر شکر گزاری کا مہینہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو اسی ماہ میں نازل فرمایا اور اسی نسبت سے اس مہینے کو دیگر تمام مہینوں پر فضیلت عطا کی۔
سورۂ بقرہ 185 میں واضح کیا گیا کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا، جو تمام انسانوں کے لیے ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والی روشن تعلیمات پر مشتمل ہے۔
پس روزہ دراصل اس ہدایتِ ربانی کے اعتراف اور شکر کا عملی اظہار ہے۔
مزید پڑھیں
قرآن اور رمضان کا تعلق محض تاریخی نہیں بلکہ روحانی اور عملی بھی ہے۔
رسول اکرمﷺ رمضان میں حضرت جبریلؑ کے ساتھ قرآن کا دور فرمایا کرتے تھے۔
آپﷺ کی کثرتِ تلاوت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مہینہ قرآن سے خصوصی وابستگی کا مہینہ ہے۔
حدیثِ مبارکہ کے مطابق قیامت کے دن روزہ اور قرآن دونوں بندے کی شفاعت کریں گے۔
روزہ عرض کرے گا کہ میں نے اسے دن میں خواہشات سے روکے رکھا اور قرآن عرض کرے گا کہ میں نے اسے راتوں کو بیدار رکھا چنانچہ دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
اگرچہ تلاوتِ قرآن باعثِ اجر و ثواب ہے اور ہر حرف پر نیکی کا وعدہ ہے لیکن قرآن کا اصل مقصد محض پڑھ لینا نہیں بلکہ اسے سمجھنا، اس میں غور و تدبر کرنا اور اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔
سورۂ ص 29 میں ارشاد ہے کہ یہ بابرکت کتاب اس لیے نازل کی گئی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور اہلِ عقل اس سے نصیحت حاصل کریں۔
لہٰذا نزولِ قرآن کا مقصد انسان کو اپنے رب کی معرفت عطا کرنا، اس کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق زندگی گزارنا اور اپنے افکار و اعمال کو درست سمت دینا ہے۔
قرآن مجید انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
وہ سوال اٹھاتا ہے کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے؟ سورج و چاند کو مسخر کس نے کیا؟ رزق کو کشادہ اور تنگ کرنے والا کون ہے؟
ان سوالات کے ذریعے انسان کے اندر شعور کو بیدار کیا جاتا ہے تاکہ وہ حقیقت تک پہنچ سکے۔ اسی طرح سورۂ محمد 24 میں تنبیہ کی گئی: کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں؟
مفسرین نے تدبرِ قرآن کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تدبر کا حکم دیتا اور اس سے اعراض کرنے والوں کی مذمت کرتا ہے۔
حسن بصریؒ نے افسوس ظاہر کیا کہ لوگوں نے قرآن کو محض تلاوت تک محدود کر دیا حالانکہ وہ عمل کے لیے نازل ہوا تھا۔
ابنِ قیمؒ کے مطابق قرآن میں تدبر سے بڑھ کر کوئی چیز نفع بخش نہیں۔
انسان کو دل و دماغ کی نعمت اسی لیے عطا کی گئی ہے کہ وہ سوچے، سمجھے اور سچائی تک پہنچے۔
خالی گھر شیطان کا ہوتا ہے، اسی طرح خالی ذہن بھی برائی کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔
اگر دل و دماغ کو قرآن کی روشنی سے منور نہ کیا جائے تو وہاں گمراہی جگہ بنا لیتی ہے۔
دنیا میں کوئی شے مکمل خالی نہیں ہوتی اگر گلاس میں پانی نہ ہو تو ہوا بھر جاتی ہے۔
اسی طرح اگر انسان اپنے ذہن کو خیر سے نہ بھرے تو شر اس میں جگہ بنا لیتا ہے۔
قرآن بار بار تخلیقِ کائنات میں غور کی دعوت دیتا ہے۔
سورۂ آلِ عمران 190-191 میں بیان ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق اور دن رات کے الٹ پھیر میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں، جو ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے اور کائنات میں غور کرتے ہوئے پکار اٹھتے ہیں کہ اے رب! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم دنیاوی تعلیم کے لیے بے حد محنت کرتے ہیں۔
نصابی کتب سمجھنے کے لیے کوچنگ سینٹرز تک کا انتظام کرتے ہیں، مگر قرآن کی زبان سیکھنے یا اس کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
بعض لوگ عذر پیش کرتے ہیں کہ قرآن ہماری زبان میں نہیں، اس لیے ہم نہیں سمجھ سکتے۔ حالانکہ اگر کسی بڑے شخص کا خط اجنبی زبان میں مل جائے تو ہم اسے سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
پھر خالقِ کائنات کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟
رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو قرآن کی آیات پڑھتا ہے مگر ان میں غور نہیں کرتا۔
یہ وعید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ محض تلاوت کافی نہیں بلکہ تدبر لازم ہے۔
خود نبی کریمﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ آپﷺ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرماتے، تسبیح والی آیت پر تسبیح کرتے، سوال والی آیت پر دعا کرتے اور عذاب والی آیت پر پناہ مانگتے۔
کبھی کبھی پوری رات ایک ہی آیت کی تلاوت میں گزار دیتے، جیسا کہ سورۂ مائدہ 118 کی آیت کے بارے میں منقول ہے۔
صحابۂ کرامؓ کا بھی یہی طریقہ تھا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ہم دس آیات سیکھتے اور جب تک ان کا مفہوم سمجھ کر ان پر عمل نہ کر لیتے، آگے نہ بڑھتے۔
ان کے نزدیک قرآن سیکھنا محض الفاظ یاد کرنا نہیں بلکہ عمل کے ساتھ وابستہ تھا۔
ابنِ قیمؒ نے قرآن سننے والوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا: ایک وہ جو غور سے سنتے اور دل و دماغ سے سمجھتے ہیں یہ زندہ دل اور بصیرت والے لوگ ہیں۔
دوسرے وہ جو سمجھ تو سکتے ہیں مگر توجہ نہیں دیتے۔
تیسرے وہ جو نہ سنتے ہیں نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں یہ گویا اندھے اور بہرے ہیں۔
یہ تصور غلط ہے کہ فہمِ قرآن صرف علماء کا کام ہے۔
قرآن خود اعلان کرتا ہے کہ وہ ’ھدی للناس‘ ہے، یعنی تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے۔
ہاں، تخصصی مسائل میں علماء کی رہنمائی ضروری ہے مگر بنیادی فہم اور تدبر ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم رمضان کو قرآن فہمی کا نقطۂ آغاز بنائیں، اس کی زبان سیکھنے کی کوشش کریں، معتبر تفاسیر سے استفادہ کریں، آیات میں غور کریں اور اپنی عملی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالیں۔
یہی شکرِ نعمت ہے، یہی رمضان کا پیغام ہے اور یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ۔