امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی قیادت اپنی فضائی دفاعی صلاحیت، فضائیہ، بحریہ اور کمانڈ ڈھانچے سے محروم ہونے کے بعد مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہی ہے، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا دفاعی نظام، فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم ہو چکی ہے اور اب وہ بات چیت چاہتے ہیں، تاہم میں نے کہا کہ ’وقت نکل چکا ہے‘۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی مبینہ کوششوں کو حملوں کا ایک سبب قرار دیا۔ واضح رہے کہ تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے، باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہای کے علاوہ سینئر عسکری و سیاسی قیادت ماری گئی، جس کے بعد ایرانی ردعمل کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید پھیل گئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں برطانیہ کے ساتھ تعلقات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تاریخی روابط اب پہلے جیسے نہیں رہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے قبرص میں موجود برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے بعد ٹرمپ نے برطانوی اخبار دی سن کو دیے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ اب یورپ کے دیگر ممالک کے ساتھ امریکہ کے مضبوط تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹارمر نے تعاون نہیں کیا، جو میرے لیے غیر متوقع تھا۔
وائٹ ہاؤس سے پیر کی شام دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ دنیا بدل چکی ہے اور برطانیہ کے ساتھ تعلقات ماضی کے مقابلے میں مختلف نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس کے باوجود برطانیہ کے لیے محبت کا اظہار بھی کیا۔