اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

سعودیہ کے خلاف معلوماتی جنگ: جعلی ویڈیوز کے ذریعے افواہوں کی یلغار

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فوٹو: سبق

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز اور تہران کی طرف سے خلیجی دار الحکومتوں اور شہروں کو نشانہ بنانے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد ویڈیوز اور مناظر گردش کرنے لگے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔

 بعد ازاں واضح ہوا کہ ان میں سے بعض ویڈیوز پرانی، من گھڑت یا مکمل طور پر جعلی تھیں۔

ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے، باخبر رہنے کے لیے کلک کریں

 یہ دراصل ایک اور قسم کی جنگ ہے،  شعور اور ادراک کو نشانہ بنانے کی جنگ جو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں سے کم خطرناک نہیں اور جسے ’ڈیٹا یا معلوماتی جنگ‘ کہا جاتا ہے۔

ڈیٹا وار کیا ہے؟

ڈیٹا وار سے مراد گمراہ کن خبروں اور جعلی مواد کا استعمال ہے، جس کا مقصد رائے عامہ پر اثر انداز ہونا، خوف و اضطراب پھیلانا، اعتماد کو متزلزل کرنا یا کسی واقعے کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے۔ 

عموماً حساس اور کشیدہ لمحات میں ایسی مہمات تیز ہو جاتی ہیں، جب عوام معلومات کے لیے بے تاب اور فوری ردعمل کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

اسی تناظر میں پرانی ویڈیوز کو نئے واقعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے یا دوسرے ممالک کی فوٹیج کو سعودی عرب یا اس کے علاقائی ماحول سے جوڑ دیا جاتا ہے، جس سے حقیقت واضح ہونے سے پہلے ہی الجھن کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ 

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ مواد میں رد و بدل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان، تیز اور مؤثر ہو چکا ہے۔

گمراہ کن مناظر

سوشل میڈیا پر تیز رفتار تبصروں کے دوران ایک ویڈیو نمایاں ہوئی جس کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ جدہ میں ہونے والے حالیہ دھماکوں کی منظر کشی کرتی ہے اور اس میں ایک ایسی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے جو سعودی آرامکو سے متعلق ہے۔ 

مختصر وقت میں ویڈیو کو 10 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا اور یہ وسیع بحث کا موضوع بن گئی، جہاں بعض صارفین نے اسے ایک حقیقی اور تازہ پیش رفت سمجھ لیا۔

تاہم سادہ جانچ پڑتال سے واضح ہوا کہ یہ ویڈیو مارچ 2022 کی ہے، جب اس وقت جدہ میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، اور اس کا موجودہ واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

اسی طرح ایک اور ویڈیو میں شدید شعلوں کا منظر دکھایا گیا اور اسے حالیہ ایرانی حملے کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ 

بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ دراصل 2024 میں یمن کی الحدیدہ کی بندرگاہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کی فوٹیج ہے، جس کا سعودی عرب یا موجودہ حالات سے کوئی تعلق نہیں۔

ان دونوں مثالوں میں مشترک عنصر تحریری دعویٰ نہیں بلکہ جلتی ہوئی توانائی تنصیبات کی تصویر تھی۔ 

اس نوعیت کے مناظر فوری نفسیاتی اثر چھوڑتے ہیں اور اکثر تفصیلات کی تصدیق سے پہلے تاثر قائم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

یوں ایک پرانی ویڈیو تیز رفتار اشاعت اور بصری اثر کی قوت کے باعث نئی بحث کو ہوا دینے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ 

ہدف دراصل سعودی عوام کا شعور، ان کا اعتماد اور ان کے حوصلے کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔

افواہوں کا معاشی اثر

جعلی ویڈیوز اور افواہوں کا اثر صرف سماجی بے چینی تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ حساس معاشی پہلوؤں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ 

کشیدہ حالات میں کوئی گمراہ کن ویڈیو اہم تنصیبات، سپلائی کے تسلسل یا عمومی استحکام کے بارے میں بے بنیاد خدشات پیدا کر سکتی ہے، جو فوری طور پر افراد اور منڈیوں کے رویّوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

افواہیں بعض لوگوں کو جلد بازی میں فیصلے کرنے پر آمادہ کر سکتی ہیں، خواہ وہ سرمایہ کاری، تجارتی لین دین یا حتیٰ کہ روزمرہ خریداری سے متعلق ہوں، بغیر اس کے کہ معلومات کی صحت کی تصدیق کی جائے۔

چونکہ اعتماد معاشی استحکام کا بنیادی ستون ہے، اس لیے جب جعلی مواد کے ذریعے اسی اعتماد کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو مقصد عارضی انتشار یا محدود واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہوتا ہے۔ 

لہٰذا معلومات کے ساتھ باشعور اور ذمہ دارانہ برتاؤ نہ صرف افراد کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ مجموعی معاشی منظرنامے کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

اگرچہ مملکت میں سائبر سیکیورٹی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے اور متعلقہ ادارے معلوماتی جرائم اور افواہیں پھیلانے والوں کے تعاقب میں سرگرم ہیں، نیز نافذ العمل قوانین جھوٹی خبروں کی اشاعت یا انہیں بدنیتی سے دوبارہ پھیلانے کو جرم قرار دیتے ہیں، تاہم ادارہ جاتی کردار کے ساتھ ساتھ فرد کا شعور اور ذمہ داری بھی ڈیجیٹل گمراہی کے مقابلے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔