امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ تقریباً چار ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فوجی کارروائی ہمیشہ سے اس مدت کے لیے منصوبہ بندی کی گئی تھی، اگرچہ یہ کم عرصے میں بھی ختم ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے ڈیلی میل سے ٹیلی فون انٹرویو میں کہا کہ لڑائی جیسا کہ منصوبہ بنایا گیا تھا ویسے ہی جاری ہے۔
مزید کہا کہ یہ ہمیشہ تقریباً چار ہفتے کی کارروائی رہی ہے، ایران بڑا ملک ہے، اس پر چار ہفتے لگیں گے، یا کم۔
صدر نے واضح کیا کہ اب تک حملوں کے نتائج سے وہ حیران نہیں ہوئے، اور میدانِ جنگ میں پیش آنے والی صورتحال توقعات کے مطابق ہے۔
بعد ازاں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج ایران پر حملے جاری رکھے گی جب تک کہ اپنے اہداف حاصل نہ کر لے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم کسی ایسے ملک کو اجازت نہیں دے سکتے جو دہشت گرد فوجیں تشکیل دے رہا ہو اور ایسے ہتھیار رکھتا ہو جو دنیا کو بلیک میل کرنے کے قابل ہوں تاکہ اسے اپنی شرپسندانہ خواہشات کے تابع کرے۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے، باخبر رہنے کے لیے کلک کریں