ایران کے سیاسی نظام میں ’سپریم لیڈر‘ (رہبرِ معظم) کی جانشینی کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے، جس میں آئینی تقاضوں کے ساتھ ساتھ مذہبی اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی اندرونی طاقت کے توازن کا گہرا عمل دخل بھی ہے۔
مزید پڑھیں
اگرچہ ایران میں تاحال سپریم لیڈر کے جانشین کے لیے کسی امیدوار کے نام کا سرکاری اعلان نہیں ہوا، تاہم زیرِ گردش ناموں میں انقلابی علامت اور سیاسی تسلسل کی کشمکش دکھائی دے رہی ہے۔
ایران کے آئین کی دفعہ 107 اور 111 کے مطابق سپریم لیڈر کا انتخاب ’مجلسِ خبرگانِ رہبری‘کرتی ہے۔ یہ ادارہ 88 شیعہ علمائے کرام پر مشتمل ہے، جنہیں عوام ہر 8 سال بعد منتخب کرتے ہیں۔
اِن کے امیدوار ہونے کی اہلیت کی تصدیق ’گارڈین کونسل‘ (شوریٰ نگہبان) کرتی ہے۔ مجلسِ خبرگان کو سپریم لیڈر کی تقرری،، ان کے امور کی نگرانی اور ضرورت پڑنے پر انہیں معزول کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تمام خبریں ایک جگہ پر، کلک کریں
عہدہ خالی ہونے کی صورت میں آئین کی دفعہ 111 کے تحت ایک عارضی لیڈرشپ کونسل تشکیل دی جاتی ہے جو متبادل کے انتخاب تک امورِ مملکت چلاتی ہے۔
اس کونسل میں موجودہ صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کا ایک رکن شامل ہوتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سرکاری پورٹل پر موجود دستاویزات کے مطابق یہ کونسل سپریم لیڈر کا انتخاب نہیں کرتی، بلکہ صرف عبوری دور میں نظم و نسق کی نگرانی کرتی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای: اثر و رسوخ کے پسِ پردہ کردار
حالیہ سیاسی تجزیوں میں سب سے نمایاں نام امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے میں نشانہ بننے والے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کا ہے۔
56 سالہ مجتبیٰ نے قم کے مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اپنے والد کے دفتر میں انتہائی بااثر ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے اہم حلقوں سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔
نومبر 2019 میں امریکی محکمہ خزانہ نے ان پر پابندیاں عائد کی تھیں، جن میں انہیں بغیر کسی حکومتی عہدے کے باضابطہ طور پر سپریم لیڈر کی نمائندگی کرنے والا قرار دیا گیا تھا۔
فروری 2024 میں مجلسِ خبرگان کے رکن محمود محمدی عراقی نے انکشاف کیا تھا کہ سپریم لیڈر نے موروثیت کے تاثر سے بچنے کے لیے اپنے بیٹے کی اہلیت جانچنے کی مخالفت کی تھی۔
اس سے قبل اگست 2023 میں اصلاح پسند رہنما میر حسین موسوی نے اپنے آفیشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کے ذریعے موروثیت کی سازش سے خبردار کیا تھا۔
حسن خمینی: خاندانی پس منظر اور سیاسی چیلنجز
دوسری جانب بانیِ انقلاب خمینی کے پوتے حسن خمینی (عمر تقریباً 53 سال) کا نام بھی زیرِ بحث ہے۔ وہ اصلاح پسند حلقوں سے قربت رکھتے ہیں اور بانیِ انقلاب کے پوتے ہونے کے ناتے مذہبی حلقوں میں ایک علامتی احترام کے حامل ہیں۔
سن 2016 میں گارڈین کونسل نے انہیں مجلسِ خبرگان کے امیدوار کے طور پر نااہل قرار دیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2021 میں سپریم لیڈر نے انہیں صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لینے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
فی الوقت اصلاح پسند حلقے انہیں ایک متفقہ امیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم مجلسِ خبرگان کی موجودہ قدامت پسند اکثریت کے پیشِ نظر ان کے امکانات مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے اندرونی توازن پر منحصر ہیں۔
دیگر ممکنہ امیدوار
مذکورہ بالا ناموں کے علاوہ دیگر علمائے دین کے نام بھی سامنے آتے ہیں، جن میں مجلسِ خبرگان کے نائب سربراہ علی رضا اعرافی شامل ہیں، جو ایران میں مدارس کے منتظم بھی ہیں۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ اور کارنیگی فاؤنڈیشن جیسے تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف، مجلسِ خبرگان کے اندرونی توازن اور علاقائی و بین الاقوامی صورتحال سپریم لیڈر کے انتخاب کے حتمی فیصلے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
ایرانی نظام کی روایت کے مطابق فیصلہ بند کمروں میں طے پائے گا اور بعد ازاں اسے ایک مکمل آئینی عمل کے طور پر پیش کیا جائے گا۔