ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو آج ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور سوڈان کی عبوری خودمختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی جانب سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفون کالز موصول ہوئیں۔
مزید پڑھیں
دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور اس کے علاقائی و عالمی سلامتی پر اثرات پر تفصیلی بات چیت کی۔
ولی عہد سے گفتگو کے دوران رہنماؤں نے موجودہ حالات اور خطے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا، خاص طور پر حالیہ ایرانی حملوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر رجب طیب اردوان نے ایرانی حملوں میں سعودی عرب کو نشانہ
بنانے کی مذمت کی اور کہا کہ ترکیہ سعودی خودمختاری اور استحکام کے خلاف کسی بھی اقدام کو مسترد کرتا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تمام خبریں ایک جگہ پر، کلک کریں
انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ترکیہ سعودی عرب کی جانب سے اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
سوڈان کی عبوری خودمختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے بھی سعودی عرب کی سرزمین پر ایرانی حملے کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان، سعودی عرب کے امن اور استحکام کو درپیش ہر خطرے کے خلاف اس کے ساتھ کھڑا ہے۔