ایرانی سابق صدر محمود احمدی نژاد سے متعلق خبریں زیرِگردش ہیں کہ وہ مشرقی تہران کے علاقے نارمک میں مبینہ حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے، تاہم ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق یا تردید نہیں ہوئی۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق مختلف نیوز پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ شام نارمک کے ایک محلے کو نشانہ بنایا گیا جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔
گردش کرنے والی خبروں میں حملے کی نوعیت، اس کے ذمہ دار عناصر یا واقعے کے پس منظر سے متعلق بھی واضح تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اب تک کی دستیاب معلومات غیر مصدقہ ہیں اور مختلف ذرائع
ایک دوسرے سے مختلف دعوے کر رہے ہیں، جس کے باعث صورتحال غیر واضح ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تمام خبریں ایک جگہ پر، کلک کریں
خبر شائع ہونے تک ایرانی حکام یا متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا جس میں ان خبروں کی تصدیق یا تردید کی گئی ہو۔ نہ ہی کسی معتبر سرکاری ذریعے سے اس واقعے کے بارے میں واضح مؤقف سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہ چکے ہیں ۔