عالمی سطح پر سائبر حملوں میں مسلسل اضافے اور ان کے قومی سلامتی اور معیشت کے لیے براہِ راست خطرہ بننے کے تناظر میں، کویت نے اپنے ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ اور الیکٹرانک خطرات کی روک تھام کے لیے ایک جامع قومی نظام کا انکشاف کیا ہے۔
یہ اقدام ریاستی سطح پر ’ڈیجیٹل قومی سلامتی‘ کو مضبوط بنانے اور ہیکنگ کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کی سرکاری پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
سائبر جرائم کے انسداد سے متعلق ساتویں کویتی کانفرنس کے نتیجے میں جدید حکمتِ عملی پیش کی گئی، جو بڑھتے ہوئے الیکٹرانک خطرات سے نمٹنے کے لیے سرکاری اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے اداروں کو یکجا کرتی ہے۔
کانفرنس کے دوران عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ سائبر اسپیس کا تحفظ مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔
اس کے لیے سرکاری اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے مابین باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔
اس موقع پر سنٹرل ایجنسی فار انفارمیشن ٹیکنالوجی کی قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نجاة ابراہیم نے اس امر کی تصدیق کی کہ کویت سائبر سکیورٹی کے میدان میں عالمی سطح کی بہترین عملی مثالوں سے ہم آہنگی کے لیے پُرعزم ہے اور ایسے جامع قومی نظام کی تشکیل پر کام کر رہا ہے جو پیشہ ورانہ اور مؤثر انداز میں الیکٹرانک خطرات کا مقابلہ کر سکے تاکہ ڈیجیٹل قومی سلامتی کو تقویت ملے اور معاشرے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔