ایران پر اسرائیل کے ساتھ مل کر حملے سے قبل امریکا نے خطے میں وسیع بحری اور فضائی طاقت تعینات کی تھی، جس کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔
مزید پڑھیں
امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق اس آپریشن کی تیاریوں کے سلسلے میں خطے میں 10 سے زائد امریکی جنگی جہاز موجود تھے، جو بڑے پیمانے پر بحری تیاری کا حصہ تھے۔
امریکی بحریہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 2 تباہ کن جنگی جہاز ’یو ایس ایس مائیکل مورفی‘ اور ’یو ایس ایس مِیچر‘ آبنائے ہرمز کے قریب تعینات تھے۔
ان کے ساتھ ساحلی جنگی جہاز ’یو ایس ایس کینبرا‘اور ’یو ایس ایس سانتا باربرا‘بھی جمعے تک اسی علاقے میں موجود رہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
مزید برآں بحرِ عرب میں امریکی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘اور 7تباہ کن جہاز تعینات کیے گئے، جن میں ’یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن جونیئر‘، ’یو ایس ایس سپروانس‘، ’یو ایس ایس ڈیلبرٹ بلیک‘، ’یو ایس ایس جان فن‘، ’یو ایس ایس میکفول‘، ’یو ایس ایس میلیئس‘ اور ’یو ایس ایس پنکنی‘ شامل ہیں۔
اسی طرح ساحلی جنگی جہاز ’یو ایس ایس تولسا‘بھی بحرِ عرب میں موجود ہے، جبکہ طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘کیریبین سمندر سے روانہ ہو کر خطے میں پہنچ چکا ہے تاکہ حملے کی کارروائیوں میں معاونت کی جا سکے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران پر حملہ مشترکہ قوت کے ذریعے کیا گیا، جس میں بحریہ اور فضائیہ کے طیارے، جنگی جہازوں سے داغے گئے ہتھیار اور اسپیس فورس، بری فوج اور میرین کور کے وسائل شامل تھے۔