امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں اور اس پر تہران کی جوابی کارروائی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں فضائی حدود کی بندش نے عالمی ہوا بازی کے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
مزید پڑھیں
خطے کی کئی بڑی ایئرلائنز نے پروازیں معطل کردیں، جس کے باعث یورپ اور ایشیا کے مابین اہم فضائی راستہ تقریباً مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فضائی گزرگاہ، جو یورپ اور ایشیا کے درمیان اہم راہداری سمجھی جاتی ہے، اب تقریباً طیاروں سے خالی ہے۔
ایران، اسرائیل، عراق اور اُردن نے فوری طور پر اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں ، جبکہ متحدہ عرب امارات نے احتیاطی اقدام کے طور پر جزوی اور عارضی بندش نافذ کی ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
کشیدگی میں اضافے کے بعد کئی بڑی فضائی کمپنیوں نے بھی سیکیورٹی صورتحال کا ازسرِ نو جائزہ لیا ہے اور لفتھانسا، ایئر فرانس اور ایبیریا نے تل ابیب اور بیروت کے لیے پروازیں منسوخ کر دیں، جبکہ بعض پروازوں کے آئندہ کئی روز تک معطل رہنے کا امکان ہے۔
اسی طرح وِز ایئر نے اسرائیل، دبئی، ابو ظبی اور عمان کے لیے اپنی پروازیں روک دی ہیں، جبکہ رائل ڈچ ایئرلائن KLM نے اسرائیل سے عارضی طور پر سفر منقطع کیا اور آج کی مقرر آخری پرواز بھی منسوخ کر دی۔
اسی طرح فلائی دبئی کے ترجمان نے بتایا کہ 28 فروری کو خطے میں متعدد فضائی حدود کی عارضی بندش کے باعث کمپنی کی بعض پروازیں متاثر ہوئیں، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں فضائی حدود کی بندش نے عالمی ایئرلائنز پر آپریشنل دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ کمپنیوں کو بند فضائی علاقوں سے بچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے پروازوں کا دورانیہ طویل ہو رہا ہے اور ایندھن کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔