ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے تمام اثاثے اور مفادات اب جائز ہدف بن چکے ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی، اسرائیلی جارحیت کے بعد تمام سرخ لکیریں ختم ہو گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منظرنامے جو پہلے زیر غور نہیں تھے، اب حقیقت بن چکے ہیں۔
اسرائیل کے لیے واضح پیغام دیا کہ ’تیار رہو، ہمارا ردِعمل کھلا ہوگا اور کوئی سرخ لائن نہیں‘۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبریں، ایک جگہ پر، کلک کیجئے
اسی دوران، ایرانی اعلیٰ قومی سکیورٹی کونسل نے توقع ظاہر کی کہ امریکی، اسرائیلی حملے جاری رہیں گے۔
کونسل نے جو ایران کی اعلیٰ سکیورٹی اتھارٹی ہے، بیان میں کہا کہ اسرائیل اور امریکہ سے حاصل معلومات کے مطابق، ان کی کارروائیاں تہران اور دیگر کچھ شہروں میں جاری رہیں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس دوران اسکول اور یونیورسٹیاں بند رہیں گی جبکہ بینک اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔
دریں اثنا ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی، اسرائیلی حملے کو مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
وزارت نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی بار بار ہونے والی فوجی جارحیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب تہران اور واشنگٹن سفارتی مذاکرات میں مصروف تھے۔
وزارت نے توقع ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک، خصوصاً خطے اور اسلامی ممالک، اس جارحیت کی سخت مذمت کریں اور اس کا فوری اور مشترکہ طور پر مقابلہ کریں کیونکہ یہ بلا شبہ خطے اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔