عبد المنان معاویہ
لیاقت پور
ماہِ رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے نہایت عظمت اور برکت کا مہینہ ہے۔
اس ماہ کے روزے اسلام کے بنیادی ارکان میں سے رکن ہیں اور ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہیں۔
تاہم روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ اس کے پسِ پشت گہری حکمتیں اور بلند مقاصد کارفرما ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ روزوں کی فرضیت کا مقصد کیا ہے؟
قرآن و حدیث اور ائمہ کرام کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کی سب سے بڑی حکمت نفسِ سرکش کی اصلاح اور انسان کے اندر تقویٰ کی صفت پیدا کرنا ہے تاکہ وہ شریعت کے احکام کو سہولت اور رغبت کے ساتھ ادا کرسکے۔
مزید پڑھیں
روزہ اور تزکیۂ نفس
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ روزے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے اندر اخلاقِ الٰہیہ میں سے ایک اخلاق، یعنی صمدیت کا عکس پیدا کرے۔
انسان خواہشات کا مجموعہ ہے جبکہ فرشتے خواہشات سے پاک ہیں۔
روزہ انسان کو فرشتوں کی صفات کی طرف مائل کرتا ہے تاکہ وہ حیوانی خواہشات کے بجائے عقل و شعور کی رہنمائی میں زندگی گزارے۔
اگر انسان خواہشات کے پیچھے چلتا رہے تو اسفل السافلین تک گر جاتا ہے لیکن اگر وہ نفس پر قابو پالے تو اعلیٰ علیین تک پہنچ سکتا ہے۔
روزہ اسی مجاہدے کی عملی تربیت ہے۔
روزہ اور اعتدالِ شہوت
امام ابن قیمؒ کے نزدیک روزہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ نفس انسانی عادتوں اور خواہشات کے شکنجے سے آزاد ہوکر اعتدال کی راہ اختیار کرے۔
بھوک اور پیاس انسان کی شہوانی قوت کو کمزور کرتی ہیں اور اس کے اندر توازن پیدا کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ ابدی سعادت کے حصول کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ کرسکتا ہے۔
روزہ انسان کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو نانِ شبینہ کے محتاج ہیں، یوں اس کے اندر ہمدردی اور مواسات کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے۔
یعنی یہ گناہوں اور شیطانی حملوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔
جو شخص نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو، اسے روزہ رکھنے کی تلقین کی گئی کیونکہ یہ شہوت کے جوش کو کم کرتا ہے اور اخلاقی پاکیزگی میں مدد دیتا ہے۔
مزید پڑھیں
قلب کی اصلاح اور روحانی یکسوئی
امام ابن قیمؒ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ دل کی اصلاح اور اللہ کی طرف مکمل توجہ اسی وقت ممکن ہے جب انسان فضول مشاغل سے بچے۔
زیادہ کھانا، زیادہ سونا، بے ضرورت گفتگو اور غیر ضروری میل جول انسان کے باطن کو منتشر کر دیتے ہیں۔
روزہ ان تمام اسباب کو محدود کرکے بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اس طرح روزہ روحانی یکسوئی، انابت اور تعلق باللہ کو مضبوط کرتا ہے۔
اعتدال اور غلو سے اجتناب
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ روزہ کے مقاصد میں ایک اہم مقصد یہ ہے کہ انسان عبادت میں غلو اور تشدد سے بچے۔
سابقہ امتوں نے نفس کشی کے نام پر عبادات میں بے جا سختیاں پیدا کرلیں، جس سے تحریف کا دروازہ کھلا۔
اسلام نے روزے کو اعتدال کے ساتھ مشروع کیا۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے صومِ وصال (مسلسل کئی دن بغیر افطار کے روزہ رکھنا) سے منع فرمایا اور سحری کی ترغیب دی تاکہ عبادت میں توازن باقی رہے۔
قرآن کا بیان: تقویٰ کا حصول
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ (البقرہ 183)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روزے کا بنیادی مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔
تقویٰ کا مطلب ہے اللہ کے احکام کی پابندی اور گناہوں سے اجتناب۔
روزہ انسان کو اپنی خواہشات پر قابو پانے کی عملی مشق دیتا ہے۔
جب وہ حلال چیزوں سے بھی ایک مقررہ وقت تک رک سکتا ہے تو حرام سے رکنا اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔
روزہ: صبر کی تربیت
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں کہ روزہ صبر کا ایک بڑا رکن ہے۔
حدیث میں روزے کو نصف صبر کہا گیا ہے۔
صبر کا مطلب ہے نفس کو قابو میں رکھنا اور مشکلات میں ثابت قدم رہنا۔
روزہ انسان کو برداشت، ضبطِ نفس اور استقامت کی تربیت دیتا ہے۔
یہی تربیت اسے عملی زندگی میں شریعت کی پابندی کے قابل بناتی ہے۔
جسمانی اور اخلاقی فوائد
مولانا عبدالماجد دریا بادیؒ کے مطابق روزہ نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی فوائد بھی رکھتا ہے۔ طبی ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ روزہ جسمانی صحت کے لیے مفید ہے۔
اس سے بدن کے فاسد مادے خارج ہوتے ہیں اور نظامِ ہضم کو آرام ملتا ہے۔
اسی کے ساتھ زبان، آنکھ اور دیگر اعضا کو گناہوں سے بچانے کی تاکید بھی احادیث میں آئی ہے تاکہ روزہ محض ظاہری عمل نہ رہے بلکہ مکمل اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنے۔
فرضیتِ روزہ کا پس منظر
نبی کریمﷺ پر ابتدا میں صرف ایمان اور توحید کی دعوت کا حکم تھا۔
ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں دیگر احکام نازل ہوئے۔
پہلے عاشورہ کا روزہ فرض تھا، بعد میں 2 ہجری میں رمضان کے روزے فرض قرار دیے گئے اور عاشورہ کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔
ابتدا میں کچھ سہولتیں دی گئیں لیکن بعد میں صحت مند اور مقیم افراد پر روزہ لازمی کردیا گیا، جبکہ مریض اور مسافر کو رخصت دی گئی کہ بعد میں قضا کرلیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں آسانی مقصود ہے، نہ کہ مشقت۔
رمضان کی فضیلت
حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
تم پر ایک عظمت والا اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہوا ہے۔
اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اس کے روزے فرض اور قیام نفل ہے۔
یہ صبر اور مواسات کا مہینہ ہے۔
رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے۔
اس مہینے میں نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔
کسی روزہ دار کو افطار کرانے پر بھی برابر ثواب ملتا ہے، خواہ ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ ہو۔
خلاصۂ کلام
روزے کی فرضیت کا مقصد محض بھوکا رہنا نہیں بلکہ نفس کی اصلاح، تقویٰ کا حصول، صبر کی تربیت، روحانی یکسوئی، ہمدردی و مواسات کا فروغ اور جسمانی و اخلاقی پاکیزگی ہے۔
روزہ انسان کو خواہشات کے غلبے سے نکال کر اطاعتِ الٰہی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
بڑی حکمت یہی ہے کہ نفسِ سرکش کی اصلاح ہو اور شریعت کے احکام، جو ابتدا میں نفس پر بھاری معلوم ہوتے ہیں، آسان ہوجائیں۔
اگر مسلمان روزے کی ان حقیقی حکمتوں کو سمجھ کر اس پر عمل کریں تو رمضان المبارک ان کی زندگیوں میں حقیقی انقلاب برپا کرسکتا ہے اور وہ واقعی ’لعلکم تتقون‘ کا مصداق بن سکتے ہیں۔