مملکت میں تاریخی مساجد کے تحفظ، ترقی ، توسیع اور بحالی کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان پروجیکٹ کے تحت مختلف علاقوں کی قدیم مساجد کی مرمت و توسیع کا عمل جاری ہے۔
مزید پڑھیں
اس منصوبے کا مقصد نہ صرف ان مساجد کی دینی و ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنا ہے بلکہ ان کے اصل تعمیراتی انداز کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں موجودہ دور کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا بھی ہے۔
یہ اقدامات تحفظِ تاریخی مساجد کی کوششوں کا حصہ اور وژن 2030 کے اہداف سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اسی سلسلے میں نجران کی تاریخی مسجد ابو بکر الصدیق کو بھی ترقیاتی کاموں میں شامل کیا گیا ہے۔
’ثار‘ کے قلب میں واقع قدیم مسجد
مسجد ابو بکر الصدیق نجران ریجن کے جنوبی علاقے ثار کے وسط میں قائم ہے۔ یہ مسجد علاقے کی قدیم ترین عبادت گاہوں میں شمار ہوتی ہے اور مقامی سطح پر ایک نمایاں دینی و ثقافتی نشان کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ مسجد قصبے کے پرانے حصے میں مغربی جانب واقع ہے اور کئی دہائیوں سے علاقے کی تاریخ اور سماجی تبدیلیوں کی گواہ رہی ہے۔
واحد جامع مسجد اور سماجی مرکز
اس مسجد کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ طویل عرصے تک علاقے کی واحد جامع مسجد رہی، جہاں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ گاؤں اور آس پاس کی بستیوں کے لوگ یہاں جمع ہوتے تھے، جس سے یہ مقام علاقائی اتحاد کی علامت بن گیا۔
مسجد کا کردار صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہاں علمی نشستیں منعقد ہوتی رہیں، مقامی اجتماعات ہوتے رہے، روزمرہ امور پر مشاورت کی جاتی رہی۔ اس کے علاوہ یہاں تنازعات اور اختلافات حل کیے جاتے رہے ہیں۔
یوں یہ مسجد ایک مضبوط سماجی ادارے کے طور پر بھی پہچانی جاتی رہی ہے۔
مقامی طرزِ تعمیر اور ابتدائی ساخت
اس مسجد کو نجران کے روایتی تعمیراتی انداز کے مطابق تعمیر کیا گیا تھا۔ تقریباً 130 مربع میٹر رقبے پر قائم اس مسجد کی ترقی و توسیع سے قبل گنجائش تقریباً 57 نمازیوں تک محدود تھی۔
اس میں مرکزی نماز گاہ، بیرونی صحن، خوتین کے لیے علیحدہ جگہ، وضو کی سہولیات اور بیت الخلا شامل تھے۔
مسجد کی تعمیر میں بلاک کا استعمال، جبکہ چھت لکڑی کے مضبوط شہتیروں پر مشتمل تھی، جن کے اوپر لکڑی کی تختیاں اور کنکریٹ کی تہہ ڈالی گئی تھی۔ یہ انداز نجران کی سادہ مگر متوازن روایتی تعمیر کا عکاس تھا۔
ترقیاتی کام اور نئی سہولیات
پروجیکٹ شہزادہ محمد بن سلمان کے تحت مسجد میں بحالی و ترقیاتی کام کیے گئے، جس میں خاص توجہ اس بات پر دی گئی کہ اصل معماری شناخت برقرار رہے اور ساتھ ساتھ مسجد کی عملی افادیت میں بھی اضافہ ہو۔
مسجد کے ترقیاتی کاموں میں نماز گاہ کی توسیع اور بہتری، صحن کی ازسرنو ترتیب، مرمت کے کام، خواتین کے لیے علیحدہ مصلیٰ کی تعمیر، مرد و خواتین کے لیے الگ وضو خانے اور نئے بیت الخلا کی سہولت شامل ہیں۔
گنجائش میں نمایاں اضافہ
نئی بحالی اور توسیع کے بعد مسجد کی گنجائش بڑھ کر تقریباً 118 نمازیوں تک پہنچ گئی ہے، جو پہلے کی نسبت دگنی سے بھی زیادہ ہے۔
قدیم و جدید کا متوازن امتزاج
منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ روایتی و جدید تعمیراتی معیارات کو کس طرح ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ مسجد کو اس طرح اپ گریڈ کیا گیا ہے کہ پائیداری و فعالیت میں اضافہ ہو اور تاریخی شناخت بھی متاثر نہ ہو۔
یہ تمام ترقیاتی کام سعودی ماہر کمپنیوں کے ذریعے انجام دیے گئے ہیں جو تاریخی عمارتوں کی مرمت میں مہارت رکھتی ہیں۔ اس میں سعودی انجینئرز کی شمولیت یقینی بنائی گئی ہے تاکہ ہر مسجد کی اصل شناخت اس کے قیام کے وقت کی روح کے مطابق محفوظ رہے۔