اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

’اوہ خدا، یہ ہم نے کیا کر دیا؟‘: پہلے ایٹمی حملے کی ڈائری برائے فروخت

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

انسانی تاریخ کے ہولناک ترین واقعات میں شمار ہونے والے ہیروشیما پر پہلے جوہری حملے کو 80 برس سے زیادہ گزر چکے ہیں۔ اس سانحے کی ایک نایاب یادگار دوبارہ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔

مزید پڑھیں

امریکی طیارے ’اینو لا گے‘ میں موجود ایک ذاتی ڈائری اب میوزیم کے بجائے نیلامی میں فروخت کے لیے پیش کی جا رہی ہے، جس کی قیمت 9 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ ڈائری طیارے کے شریک پائلٹ کیپٹن رابرٹ اے لوئیس کی ہے، جنہوں نے 6 اگست 1945 کو جاپان کے شہر ہیروشیما پر ہونے والے پہلے جوہری حملے سے قبل اور اس کے فوراً بعد کے لمحات قلم بند کیے تھے۔

انہوں نے دھماکے کے بعد صدمے کی حالت میں لکھا: ’اوہ خدا، یہ ہم نے کیا کر دیا؟‘ یہ جملہ بعد ازاں اس سانحے کی ہولناکی کی علامت بن گیا۔

heroshima diary 2
(فوٹو: اے آئی)

رپورٹس کے مطابق لوئیس نے یہ نوٹس طیارے کے نیم تاریک کاک پٹ میں تحریر کیے تھے، جہاں بعض اوقات سیاہی ختم ہونے پر انہیں پنسل استعمال کرنا پڑی۔

انہوں نے تقریباً 9 ہزار میٹر کی بلندی سے نظر آنے والے دھماکے کو بیان کرتے ہوئے اسے ’انسانیت کا سب سے بڑا دھماکا‘ قرار دیا۔

واضح رہے کہ اس جوہری حملے نے ہیروشیما شہر کو تباہ کر دیا، تھا، جس میں فوری طور پر 70 سے 80 ہزار افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ بعد میں ہزاروں افراد تابکاری کے اثرات کے باعث جان سے گئے۔

heroshima diary 3
(فوٹو: اے آئی)

یہ ڈائری اس لمحے کی عینی شہادت سمجھی جا رہی ہے، جس کے سرورق پر ’ہیروشیما پر بمباری 6 اگست 1945‘ تحریر ہے اور اس پر جوہری دھماکے کے بعد بننے والے مشروم نما بادل کا ہاتھ سے بنایا گیا خاکہ بھی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دستاویز طیارے کے اندر سے لکھی گئی براہِ راست گواہی ہے، جو کسی ثانوی بیان یا تاریخی کتاب کے بجائے اس واقعے کی اصل عکاسی کرتی ہے۔