اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

کامیابی کا راز ذہانت نہیں، عزم اور ثابت قدمی ہے، ماہر نفسیات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

عام تاثر ہے کہ غیر معمولی ذہانت اور پیدائشی صلاحیت ہی کامیابی کی اصل کنجی ہیں، لیکن امریکی ماہرِ نفسیات اینجيلا ڈکوورتھ (Angela Duckworth) اس خیال سے اتفاق نہیں کرتیں۔

مزید پڑھیں

سبق ویب سائٹ کے مطابق اینجیلا کا ماننا ہے کہ کامیابی کا حقیقی راز نہ تو صرف ذہانت ہے اور نہ ہی فطری ٹیلنٹ، بلکہ یہ ایک مخصوص نفسیاتی وصف ہے جسے وہ ’عزم‘کا نام دیتی ہیں۔

ڈکوورتھ کے نزدیک یہی عزم انسان کو طویل المدتی اہداف حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے اور یہ 2 بنیادی عناصر پر مشتمل ہوتا ہے، یعنی شوق اور ثابت قدمی۔

کامیابی کا سادہ مگر مؤثر فارمولا

ویب سائٹ Upworthy کی رپورٹ کے مطابق اینجيلا ڈکوورتھ نے اپنی کتاب Grit: The Power of Passion and Perseveranceمیں کامیابی کا ایک سادہ مگر گہرا فارمولا پیش کیا ہے۔

انہوں نے میل رابنز کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:

’مختلف میدانوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افراد میں ایک قدرِ مشترک پائی جاتی ہے اور وہ ہے طویل المدتی اہداف کے حصول کے لیے شوق اور ثابت قدمی کا خاص امتزاج‘۔

یعنی کامیابی کا تعلق کسی ایک شعبے یا پیشے سے نہیں، بلکہ اس مستقل مزاجی سے ہے جو انسان کو اپنے ہدف پر قائم رکھتی ہے۔

concentration 1
(فوٹو: انٹرنیٹ)

برسوں تک ایک سمت میں توجہ

ڈکوورتھ کے مطابق شوق کا مطلب وقتی جوش یا عارضی دلچسپی نہیں ہے، بلکہ اصل شوق وہ ہے جو انسان کو برسوں تک ایک ہی میدان سے وابستہ رکھے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بار بار دلچسپیاں بدلنے کے بجائے کسی ایک مقصد یا شعبے سے طویل وابستگی ہی حقیقی مہارت پیدا کرتی ہے۔ یہی مسلسل توجہ انسان کو گہرائی میں لے جاتی ہے اور اسے نمایاں بناتی ہے۔

کامیابی سب کے لیے ممکن، مگر کیسے؟

ثابت قدمی کے بارے میں ڈکوورتھ کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی کو کسی خاص طبقے تک محدود نہیں رہنے دیتی۔ کامیابی کا دارومدار محض فطری صلاحیت پر نہیں بلکہ نظم و ضبط اور تسلسل پر ہوتا ہے۔

ثابت قدمی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان:
• مسلسل سیکھنے اور مشق کا عمل جاری رکھے
• ان کاموں پر بھی محنت کرے جن میں ابھی مہارت حاصل نہیں
• ناکامی یا مشکل دنوں کے بعد دوبارہ کھڑا ہونے کی ہمت رکھے
یہی اوصاف عام افراد کو غیر معمولی نتائج تک پہنچا سکتے ہیں۔

concentration 3
(فوٹو: اے آئی)

’مایوسی کی دلدل‘ سے گزرنا

رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے ایک اصطلاح ’ مایوسی کی تاریک دلدل‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب کسی بڑے ہدف کے راستے میں مشکلات، ناکامیاں اور شکوک انسان کو گھیر لیتے ہیں۔

ڈکوورتھ کے مطابق یہی وہ کڑا وقت ہے جہاں ثابت قدمی اصل کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ باصلاحیت کھلاڑی اگر باقاعدگی سے رات دیر تک مشق نہ کرے تو اس کی صلاحیت بے اثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ایک کاروباری شخص بار بار انکار کے باوجود کوشش جاری نہ رکھے تو کامیابی ممکن نہیں۔

گویا ہنر اہم ضرور ہے، لیکن مسلسل جدوجہد ہی اسے نتیجے تک پہنچاتی ہے۔

ہر شخص کے لیے قابلِ حصول

اینجيلا ڈکوورتھ کا نظریہ ایک اہم پیغام دیتا ہے۔ یعنی کامیابی چند خوش نصیب افراد کا مقدر نہیں بلکہ شوق اور ثابت قدمی ایسی صفات ہیں جو کوئی بھی شخص سیکھ اور اپنا سکتا ہے۔