الاحسا میں جاری ‘ قرية النخيل‘ (پام ویلج) کی سرگرمیوں نے کھجور اور کھجور کی مصنوعات سے جڑی مختلف صنعتوں کے لیے ایک مسابقتی اور تخلیقی ماحول فراہم کیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس میلے میں گھریلو صنعتوں سے وابستہ خاندانوں نے قدرتی اور معیاری مصنوعات پیش کیں جنہیں بھرپور توجہ کے ساتھ ساتھ زائرین کی جانب سے بھرپور خریداری بھی حاصل ہو رہی ہے، کیونکہ یہ اشیا خالص قدرتی اجزا سے تیار کی گئی ہیں اور ان میں کسی قسم کے اضافی کیمیائی مادے شامل نہیں۔
ان نمایاں برانڈز میں ’افراح کیئر‘ خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا، جو ایک
سعودی خاتون کی تخلیق ہے۔ انہوں نے کھجور کے بیج اور تیل سے ’صابن التمر‘ تیار کیا ہے، جسے سکری کھجور کی شکل دی گئی ہے۔
یہ صابن مکمل طور پر قدرتی خام مال سے تیار کیا جاتا ہے، اس میں کوئی اضافی کیمیکل شامل نہیں، جس کے باعث یہ صحت کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر بچوں اور ان افراد کے لیے جن کی جلد عام کیمیائی صابن سے متاثر ہوتی ہے۔
اس برانڈ کی بانی افراح الحربی نے بتایا کہ کھجور کے بیج سے صابن بنانے کا خیال 13 سال قبل اس وقت آیا جب ان کے بچوں کو شدید جلدی بیماری یعنی ایگزیما کا سامنا تھا اور انہیں قدرتی صابن کی ضرورت محسوس ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ یہ سادہ سا خیال ایک مکمل اور منفرد مصنوع میں ڈھل گیا۔
افراح کا کہنا تھا کہ ’قرية النخيل‘ میں شرکت انہیں نیشنل سینٹر فار پام اینڈ ڈیٹس کی معاونت سے ممکن ہوئی، جس نے انہیں اپنی مصنوعات نمائش کے لیے پیش کرنے اور صارفین تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا۔
اسی ادارے کے تعاون سے انہیں مختلف نمائشوں میں شرکت کا موقع بھی ملا ہے۔ افراح الحربی کے مطابق کھجور کے درخت نے ان کے لیے کامیابی کے نئے دروازے کھولے اور ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدل دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ کامیابی کا راستہ اپنے اندر موجود تخلیقی خیالات کو نکھارنے اور انہیں عملی شکل دینے سے گزرتا ہے۔
واضح رہے کہ الاحسا میں نیشنل سینٹر فار پام اینڈ ڈیٹس کے تحت منعقد ہونے والی ’قرية النخيل‘ کی سرگرمیاں جاری ہیں اور مختلف علاقوں سے آنے والے خاندانوں اور زائرین کی بڑی تعداد اس میں شرکت کر رہی ہے۔
یہ میلہ مقامی کاشتکاروں اور صنعتکاروں کو اپنی کھجور اور اس سے تیار شدہ منفرد مصنوعات کی مارکیٹنگ کا اہم موقع فراہم کر رہا ہے۔