فلکیاتی سوسائٹی جدہ نے رمضان کے دوران ہونے والے مکمل چاند گرہن سے قبل سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اصطلاح ’بلڈ مون‘ سے متعلق وضاحت جاری کردی۔
مزید پڑھیں
سوسائٹی کے مطابق مکمل چاند گرہن ان نمایاں فلکیاتی مناظر میں شامل ہے جو عوام کی خاص توجہ حاصل کرتے ہیں، کیونکہ اس موقع پر چاند کا رنگ سرخی مائل یا گہرے نارنجی شیڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
سوسائٹی نے بتایا کہ رمضان کے وسط میں 3 مارچ 2026 کو مکمل چاند گرہن ہوگا، تاہم یہ منظر سعودی عرب یا کسی بھی عرب ملک میں دکھائی نہیں دے گا۔
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر اس فلکیاتی مظہر کو ’بلڈ مون‘کہا جا رہا ہے، جو عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا لفظ ہے، لیکن یہ سائنسی اصطلاح نہیں اور فلکیات کی باقاعدہ زبان میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
صدر فلکیاتی سوسائٹی جدہ انجینئر ماجد ابو زاہرہ نے کہا کہ ’بلڈ مون‘کی اصطلاح گزشتہ دہائی میں خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوئی جب 2014 اور 2015 کے دوران لگاتار چند چاند گرہن پیش آئے اور انہیں بعض پیش گوئیوں سے جوڑ کر بیان کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ نام سائنسی تحقیق یا فلکیاتی کتب میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ زیادہ تر توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنایا گیا میڈیا انداز ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مکمل چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آ جاتی ہے اور چاند مکمل طور پر زمین کے سائے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود چاند مکمل طور پر غائب نہیں ہوتا بلکہ تانبے یا سرخی مائل رنگ میں نظر آتا رہتا ہے۔
ماجد ابو زاہرہ کے مطابق اس رنگ کی وجہ سورج کی روشنی کا زمین کے فضائی غلاف سے گزرنا ہے۔ جب سورج کی روشنی فضا میں داخل ہوتی ہے تو نیلی شعاعیں زیادہ بکھر جاتی ہیں، جبکہ سرخ شعاعیں مڑ کر آگے بڑھتی ہیں اور چاند کی سطح تک پہنچتی ہیں۔
یہی سرخ روشنی چاند سے منعکس ہو کر زمین تک واپس آتی ہے جس سے وہ سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ طبعی عمل سائنسی مشاہدات اور فلکیاتی مطالعات میں باقاعدہ طور پر درج ہے اور اس کی وضاحت عالمی اداروں، بشمول امریکی خلائی ادارے ناسا کی تحقیق میں بھی موجود ہے۔
انجینئر ماجد ابوزاہرہ نے اس بات پر زور دیا کہ مکمل چاند گرہن محض ایک خوبصورت منظر نہیں بلکہ روشنی اور زمین کے فضائی غلاف کے باہمی تعامل کی مثال ہے، لہٰذا ایسے فلکیاتی مظاہر کو غیر مستند تعبیرات کے بجائے سائنسی نقطہ نظر سے سمجھنا چاہیے۔