وزیرِ افرادی قوت و سماجی ترقی انجینئر احمد بن سلیمان الراجحی نے لیبر قوانین اور اس کے ضوابط میں شامل خلاف ورزیوں و سزاؤں کے جدول میں نئی ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔
مزید پڑھیں
وزارت کے مطابق یہ اقدام مملکت میں کام کے ماحول کو مزید بہتر بنانے، اس کے استحکام کو مضبوط کرنے اور ترقی کے عمل کو تیز کرنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔
حکام کی جانب سے اس سلسلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ اس فیصلے کا مقصد لیبر مارکیٹ کے استحکام کو سہارا دینا، کارکنوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور کام کے ماحول کو زیادہ پُرکشش و لچکدار بنانا ہے
تاکہ اداروں کی کارکردگی میں اضافہ ہو ۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ترامیم لیبر قوانین میں کی گئی ان تبدیلیوں کے مطابق ہیں ، جو شاہی فرمان کے ذریعے جاری کی گئی تھیں۔
نئی ترامیم کے تحت قوانین کی متعدد خلاف ورزیوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے، تاکہ اداروں اور کارکنوں کے لیے قوانین پر عمل درآمد اور ان کی پاسداری میں زیادہ وضاحت پیدا ہو۔
ان زمروں میں تمام سرگرمیوں کے لیے عمومی خلاف ورزیوں کے علاوہ کان کنی اور معدنیات کے شعبے سے متعلق، سمندری ملازمت کے معاہدے کے ضوابط سے متعلق اور آپریشن و مینٹیننس سرگرمیوں سے متعلق خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
اسی طرح بھرتی کے شعبے میں سرگرم کمپنیوں اور افرادی قوت فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے ضوابط، ریکروٹمنٹ دفاتر سے متعلق قواعد، گھریلو ملازمین کے ضوابط اور معاون افرادی قوت کی خدمات سے متعلق اشتہارات کی خلاف ورزیاں بھی الگ زمروں میں شامل کی گئی ہیں۔
مزید برآں سعودی شہریوں کی بھرتی، کارکنوں کی بیرون ملک سے بھرتی یا آؤٹ سورسنگ سرگرمیوں کو بغیر لائسنس انجام دینے سے متعلق خلاف ورزیاں بھی ایک مخصوص زمرے میں رکھی گئی ہیں۔
اسی طرح زرعی کارکنوں، نجی چرواہوں اور ان کے مساوی دیگر کارکنوں سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزیاں بھی الگ درجہ بندی میں شامل کی گئی ہیں۔
وزارتِ نے اس سلسلے میں ہدایات جاری کی ہیں کہ ان ترامیم کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے سرکاری ویب سائٹ کا وزٹ کیا جا سکتا ہے۔