شہزادہ محمد بن سلمان ریزرو نے جنگلی حیات کی تحقیق کے شعبے میں ایک غیر معمولی اور عالمی سطح کی کامیابی حاصل کی ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق رائل ریزرو میں شبح الصحراء (صحرا کا بھوت) کے نام سے مشہور نایاب ’ریگستانی بلیوں‘پر جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم لگا کر ان کی نقل و حرکت کا ڈیٹا حاصل کر لیا گیا ہے۔
یہ تحقیق اپنی نوعیت کی پہلی اور سب سے بڑی سائنسی کوشش ہے جس میں 6 ریگستانی بلیوں کو محفوظ طریقے سے پکڑ کر باضابطہ طور پر ان کی نگرانی کی گئی۔
اس مہم کے دوران ماہرین نے نہ صرف ان کے جینیاتی نمونے حاصل کیے بلکہ جی پی ایس ٹریکنگ اور جدید تجزیاتی تکنیکوں کے ذریعے اس نوع کے بارے میں اب تک کا سب سے جامع سائنسی ڈیٹا بیس بھی تیار کیا ہے، جو اس سے قبل عالمی سطح پر موجود نہیں تھا۔
یہ اہم تحقیقی منصوبہ اسکاٹ لینڈ کی رائل زولوجیکل سوسائٹی (RZSS) کے ’وائلڈ جینیز‘ لیبارٹری کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے۔
اس اشتراک کے نتیجے میں ریگستانی بلی کا ایک اعلیٰ معیار کا ’ریفرنس جینووم‘ تیار کیا گیا ہے، جس نے اس جانور کی ارتقائی تاریخ اور آبادی کی ساخت کے بارے میں نئے انکشافات کیے ہیں۔
حالیہ سائنسی نتائج اس نظریے کی تائید کرتے ہیں کہ یہ بلی 4 کے بجائے صرف 2 ذیلی نسلوں میں تقسیم ہے، جو کہ حیاتیاتی درجہ بندی کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی ہے۔
مقامی طور پر اسے ’شبح الصحراء‘ اسی لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے پاؤں کے تلووں پر موجود گھنے بال اسے ریت کے ٹیلوں پر بغیر نشان چھوڑے چلنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ روشنی پڑنے پر یہ اپنی آنکھیں بند کر کے زمین سے چمٹ جاتی ہے تاکہ اس کی چمکدار آنکھیں شکاریوں کو نظر نہ آئیں۔
شہزادہ محمد بن سلمان ریزرو کے چیف ایگزیکٹو اینڈرو زالومیس کا کہنا ہے کہ ان چھوٹی بلیوں کے طرز زندگی کو سمجھنا دراصل بڑے شکاری جانوروں، جیسے ایشیائی چیتے اور ٹائیگر کی واپسی کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صحرا کا ماحولیاتی نظام ان چھوٹی بلیوں کے لیے سازگار ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ پودے، شکار اور شکاری جانور ایک بہترین توازن میں موجود ہیں۔
اس تحقیق کے دوران جانوروں کی فلاح و بہبود کے بین الاقوامی معیارات (IACUC) کا خاص خیال رکھا گیا، جس کے تحت 3 نر اور 3 مادہ بلیوں کو ماہر ویٹرنری ڈاکٹروں کی نگرانی میں ٹریکنگ ڈیوائسز پہنائی گئیں۔
یہ ڈیوائسز اتنی ہلکی تھیں کہ ان کا وزن بلی کے کل وزن کے 3 فیصد سے بھی کم تھا اور ان میں خودکار طریقے سے الگ ہونے کا نظام بھی موجود تھا تاکہ جانور کو کم سے کم پریشانی ہو۔
ماہر ماحولیات جوش سمتھسن کے مطابق ماضی میں ریگستانی بلیوں پر تحقیق کرنا ان کے چھوٹے حجم کی وجہ سے بہت مشکل تھا اور پرانی وی ایچ ایف (VHF) ٹیکنالوجی سے اتنا درست ڈیٹا نہیں مل پاتا تھا، تاہم اب تیار کردہ نیا جی پی ایس طوق محض 50 گرام کا ہے جو بلی کی قدرتی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
635 راتوں پر محیط اس مشاہدے کے دوران رات 6 بجے سے صبح 6 بجے کے درمیان ہر 2 گھنٹے بعد ان کے مقام کی نشاندہی کی گئی، جس سے 3000 سے زائد لوکیشن پوائنٹس حاصل ہوئے۔
اس ڈیٹا نے ان کے رہنے کے ٹھکانوں، غاروں کے استعمال اور آپسی میل جول کے بارے میں ایسی معلومات فراہم کی ہیں جو اس سے قبل دنیا کے پاس نہیں تھیں۔
واضح رہے کہ ریگستانی بلی دنیا کی وہ واحد بلی ہے جو مکمل طور پر صحرائی ماحول میں رہنے کی عادی ہے اور اپنی نمی کی تمام ضرورتیں اپنے شکار سے پوری کرتی ہے اور اس کی سننے کی حس اتنی تیز ہے کہ یہ ریت کے نیچے حرکت کرنے والے کیڑوں، رینگنے والے جانوروں اور چوہوں کی دھیمی آوازیں بھی سن لیتی ہے۔