مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جہاں انٹیلی جنس اور میڈیا رپورٹس نے اشارہ دیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف کسی بھی وقت فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ان اطلاعات کے بعد پورا خطہ ہائی الرٹ پر آ چکا ہے، جبکہ عسکری سرگرمیوں اور سفارتی بیانات نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی نقل و حرکت، ایرانی دھمکیوں اور سفارتی رابطوں کے اس پیچیدہ حالات نے خطے کو ایک ممکنہ تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جو طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔
سابق سی آئی اے اہلکار کا دعویٰ
سابق سی آئی اے اہلکار جان کیریاکو نے 22 فروری کو پوڈکاسٹ ’جولیان ڈوری‘ میں گفتگو کرتے ہوئے تہلکہ خیز دعویٰ کیا کہ امریکی انتظامیہ ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ کر چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ اطلاع وائٹ ہاؤس کے اندر موجود ایک ذریعے سے ملی ہے، جسے انہوں نے اپنا ’دوست‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ حملہ اسی ہفتے، یعنی پیر یا منگل 23 یا 24 فروری کو ہو سکتا ہے۔
جان کیریاکو نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 10 دن کی محض ایک ’تدبیری فریب‘ ہو سکتی ہے، کیونکہ ٹرمپ مقررہ ڈیڈ لائن سے پہلے اچانک کارروائی کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ مخالف فریق کو عدم توازن میں رکھا جا سکے۔
عسکری تیاریوں جھلک
حالات کے تناظر میں اب امریکی تیاریوں کا دائرہ محض بیانات تک محدود نہیں رہا۔ عسکری رپورٹس کے مطابق خطے میں نمایاں اسٹریٹیجک سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔
• طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ‘ بحیرہ روم میں داخل ہو چکا ہے اور وہاں موجود امریکی بحری قوت میں شامل ہو گیا ہے۔
• فضائی نگرانی کے لیے AWACS طیارے خطے کے مختلف اڈوں پر منتقل کیے گئے ہیں۔
• قطر کے العدید ایئر بیس سے سیکڑوں امریکی فوجیوں کو دیگر مقامات پر منتقل کیا گیا ہے تاکہ ممکنہ ایرانی ردعمل سے انہیں محفوظ رکھا جا سکے۔
یہ اقدامات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ واشنگٹن کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے عملی تیاری مکمل کر رہا ہے۔
ممکنہ محدود حملہ
امریکی پالیسی ساز مبینہ طور پر ’محدود حملوں‘ کے آپشن پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت ایران کی مخصوص تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جن میں:
• نطنز اور فوردو جیسے جوہری مراکز
• بیلسٹک میزائل تنصیبات شامل ہیں۔
اس ممکنہ کارروائی کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا بتایا جا رہا ہے تاکہ وہ ایک ایسے ’حتمی معاہدے‘ پر آمادہ ہو جائے، جس میں یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کرنے کی شرط شامل ہو۔
ایران کا سخت مؤقف
دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود تمام امریکی اڈے اور اثاثے ’جائز اہداف‘ بن جائیں گے۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ اس کی ’انگلی ٹریگر پر ہے‘ اور وہ دفاع کے لیے تیار ہے۔
تاہم عسکری بیانات کے ساتھ ساتھ ایران نے سفارتی سطح پر محتاط لچک کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ ایک ممکنہ معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ تہران بحران کو مکمل تصادم میں بدلنے سے پہلے کوئی سفارتی راستہ نکالنا چاہتا ہے۔
نازک موڑ
امریکی عسکری نقل و حرکت، سابق انٹیلی جنس اہلکار کے دعوے، صدر ٹرمپ کی مہلت اور ایران کی جوابی دھمکیوں نے صورت حال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر محدود حملہ بھی ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ دوسری جانب، سفارتی مسودے کی تیاری اس امید کو بھی زندہ رکھتی ہے کہ شاید بحران کو بات چیت کے ذریعے ٹالا جا سکے۔
پورا خطہ فی الحال ایک فیصلہ کن لمحے سے گزر رہا ہے، جہاں ایک غلط قدم وسیع تصادم کا سبب بن سکتا ہے اور ایک دانشمندانہ سفارتی اقدام کشیدگی کم کرنے کا راستہ ہموار کر سکتا ہے۔