ڈاکٹر سمیرہ عزیز
سینئر سعودی صحافی، کاروباری شخصیت، مصنفہ، شاعرہ اور بین الثقافتی تجزیہ کار، ابلاغیات میں پی ایچ ڈی کی حامل اور مملکت میں خواتین صحافت کی اولین شخصیات میں سے ہیں۔
بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی پیش رفت نے علاقائی سفارت کاری میں ایک نیا باب کھول دیا ہے، جہاں ملک کے نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمن نے خلیجی ممالک، بالخصوص مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا واضح اظہار کیا ہے۔
سعودی عرب کے وژن 2030 کے حوالے سے ان کی علانیہ تعریف کو وسیع پیمانے پر نوٹ کیا گیا ہے اور اسے ڈھاکہ اور ریاض کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کی ایک مثبت علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
عام انتخابات میں اپنی جماعت کی فیصلہ کن کامیابی، جس کے نتیجے میں دو تہائی پارلیمانی اکثریت حاصل ہوئی، کے بعد وزیر اعظم طارق رحمان نے واضح پیغام کے ساتھ منصب سنبھالا کہ بنگلہ دیش، خلیج میں اپنے دیرینہ شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید قریب لانا چاہتا ہے۔
انتخابات سے قبل دیے گئے بیانات میں انہوں نے سعودی عرب کو
’دیرینہ دوست‘ قرار دیا اور مملکت کے انقلابی وژن 2030 پروگرام کی دل سے تعریف کی۔
انہوں نے اعتماد اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر سعودی قیادت اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے طویل المدتی شراکت داری قائم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
مملکتِ سعودی عرب نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اعلیٰ قیادت کی جانب سے بنگلہ دیش کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اس نوعیت کے سفارتی پیغامات دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں، جن کا باضابطہ آغاز 1970 کی دہائی کے وسط میں ہوا اور اس کے بعد سے افرادی قوت، تجارت اور ترقی کے شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پاتا رہا ہے۔
آج سعودی عرب میں 30 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی شہری مقیم اور برسرِ روزگار ہیں، جو مملکت میں سب سے بڑی غیر ملکی برادریوں میں سے ایک ہیں۔
گزشتہ دہائیوں کے دوران بنگلہ دیشی ماہرین، انجینئرز، طبی عملے اور ہنر مند کارکنوں نے سعودی عرب کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا جبکہ ترسیلاتِ زر اور مشترکہ مواقع نے بنگلہ دیش کی معیشت کو بھی تقویت بخشی۔
عوامی سطح پر قائم یہ مضبوط روابط دونوں ممالک کے تعلقات کی ایک مستحکم بنیاد کے طور پر موجود ہیں۔
وزیر اعظم طارق رحمن نے سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے تعلقات کی تاریخی بنیادوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی روابط کا آغاز ان کے والد کے دورِ صدارت میں ہوا اور بعد ازاں ان کی والدہ، سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے دور میں مزید مستحکم ہوئے۔
نئی حکومت کے قیام کے بعد انہوں نے متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان سمیت دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بھی تعاون بڑھانے کی امید ظاہر کی تاہم سعودی عرب کو ایک مرکزی شراکت دار قرار دیا۔
مزید پڑھیں
وژن 2030 کے حوالے سے ان کے مثبت بیانات خاص اہمیت کے حامل ہیں۔
سعودی اصلاحاتی پروگرام، جو معاشی تنوع، جدت اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے، عالمی سطح پر توجہ اور پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔
اس وژن کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیشی قیادت نے مملکت کے مستقبل بین اقدامات، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، افرادی قوت کی
تربیت اور ثقافتی تبادلہ شامل ہیں، کے ساتھ ہم آہنگی کی خواہش ظاہر کی ہے۔
سعودی عرب جیسے جیسے اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے ایجنڈے پر پیش رفت کر رہا ہے، وژن 2030 خلیجی خطے کو تجارت، ہنر اور تبدیلی کے ایک عالمی سنگم میں تبدیل کر رہا ہے، جس سے قابلِ اعتماد شراکت داروں کے لیے مملکت کی ترقی کے ساتھ ہم قدم بڑھنے کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کے لیے سعودی عرب کے ساتھ گہرا تعاون روایتی روابط سے آگے بڑھ کر مہارتوں کی ترقی، صنعتی معاونت اور سرمایہ کاری کے منظم ذرائع میں مشترکہ اشتراک کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جو دونوں معیشتوں کے لیے طویل المدتی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔
یہ وقت اس امر کا متقاضی ہے کہ سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو ایک مستقبل نگر معاشی بیانیے میں دیکھا جائے، جہاں وژن 2030 استحکام، مواقع اور باہمی مفاد پر مبنی ترقی کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم بن سکے۔
بنگلہ دیش میں سیاسی انتقالِ اقتدار کئی ماہ کی داخلی تبدیلیوں کے بعد عمل میں آیا، جس کے نتیجے میں دو دہائیوں بعد طارق رحمن کی جماعت دوبارہ اقتدار میں آئی۔
مضبوط پارلیمانی مینڈیٹ کے ساتھ نئی حکومت نے معاشی بحالی، قومی اتحاد اور بہتر طرزِ حکمرانی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
مبصرین کے مطابق خلیجی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون بنگلہ دیش کے ترقیاتی اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً سرمایہ کاری، افرادی قوت کے تعاون اور علم و مہارت کے تبادلے کے ذریعے۔
سعودی قیادت مسلسل بین الاقوامی شراکت داری اور علاقائی استحکام کی اہمیت پر زور دیتی رہی ہے، اور نئی بنگلہ دیشی حکومت کے لیے مملکت کا مثبت ردعمل دوستانہ ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
سعودی رہنماؤں کی جانب سے دیے گئے تہنیتی پیغامات مسلسل ترقی، خوشحالی اور تعاون کے مشترکہ جذبے کو اجاگر کرتے ہیں۔
دونوں ممالک کے تعلقات صرف سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ گہرے ثقافتی اور معاشی روابط پر بھی مبنی ہیں۔
مملکت میں بڑی بنگلہ دیشی برادری نے باہمی سمجھ بوجھ اور احترام کو فروغ دیا ہے، جبکہ تجارت اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون نے دونوں ممالک کو عملی فوائد فراہم کیے ہیں۔ بنگلہ دیشی قیادت کی جانب سے سعودی عرب اور خلیجی خطے کے ساتھ مزید قریبی تعاون کی خواہش کے اظہار کے بعد باہمی اشتراک کے نئے امکانات روشن دکھائی دیتے ہیں۔
جیسے جیسے وژن 2030 سعودی عرب کے معاشی منظرنامے کو نئی شکل دے رہا ہے، بنیادی ڈھانچے، افرادی قوت کی ترقی اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں شراکت کے مواقع بڑھنے کی توقع ہے۔
خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے پر بنگلہ دیش کا زور مملکت کے عالمی اشتراک اور پائیدار ترقی کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔
ڈھاکہ میں نئی حکومت کو معاشی نظم و نسق اور قومی مفاہمت سمیت اہم چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم خلیج میں قابلِ اعتماد شراکت داروں سے سفارتی روابط میں اضافہ بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ایک مستقبل بین حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتا ہے۔
سعودی عرب کے وژن 2030 کی تعریف اور دیرینہ دوستی کی توثیق کرتے ہوئے بنگلہ دیشی قیادت نے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور ایک مستحکم، باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
بدلتے ہوئے علاقائی منظرنامے میں سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے تعلقات کا مضبوط ہونا ایک مثبت پیش رفت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
ترقی، استحکام اور عوامی روابط جیسے مشترکہ مفادات کے ساتھ دونوں ممالک اس مرحلے پر کھڑے ہیں جہاں تاریخی دوستی مستقبل پر مرکوز ایک تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو سکتی ہے، جو وژن 2030 اور نئے علاقائی تعاون کے تناظر میں مزید مستحکم ہو گی۔
منصفہ سے رابطے کے لیے :
Consultant.sameera.aziz@gmail.com
متعدد آراء
زبردست سمیرہ عزیز
Zabardust work