ایک شاہی فرمان کے ذریعے شیخ صالح بن عواد المغامسی کو مسجد النبوی میں امام مقرر کر دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ شیخ صالح المغامسی کی علمی اور دینی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے ان پر قیادت کے اعتماد کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ مسجد النبوی میں امامت ایک اہم دینی ذمہ داری ہے جس کے لیے ممتاز علمی مقام اور وسیع تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔
شیخ صالح المغامسی کی علمی و دعوتی جدوجہد
مسجد نبوی شریف میں امام اور خطیب کی حیثیت سے تقرری کے بعد شیخ صالح بن عواد المغامسی نے اسے غیر معمولی اعزاز اور عظیم ذمہ داری قرار دیا ہے۔ ان کی یہ نامزدگی شاہی فرمان کے ذریعے عمل میں آئی، جس کے تحت انہیں ائمہ حرمین شریفین میں شامل کیا گیا۔
شیخ المغامسی نے اس تقرری پر گہرے تشکر اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعتماد ان کے لیے باعثِ فخر ہے، تاہم اس کے ساتھ ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔
اس حوالے سے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پیغام بھی لکھا، جس میں انہوں نے بالخصوص خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس خدمت کی ادائیگی میں کامیاب فرمائے۔
واضح رہے کہ یہ تقرری علمی اور دعوتی حلقوں میں نہایت مثبت انداز میں قبول کی گئی اور اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
خيف الحزامی سے منبرِ رسول تک کا سفر
شیخ صالح بن عواد المغامسی کی پیدائش 17 اکتوبر 1963ء (29 جمادی الاول 1383ھ) کو خيف الحزامی نامی گاؤں میں ہوئی، جو وادی الصفرا میں واقع ہے اور انتظامی طور پر محافظہ بدر کے تحت مدینہ منورہ کے مغرب میں آتا ہے۔
ایک دیہی ماحول سے تعلق رکھنے والے المغامسی نے اپنی محنت اور علمی جستجو کے ذریعے ایک نمایاں مقام حاصل کیا اور اب وہ منبرِ نبوت سے خطاب کی سعادت پا رہے ہیں۔
ابتدائی تعلیم اور اعلیٰ علمی تربیت
شیخ المغامسی نے اپنی ابتدائی تعلیم مدینہ منورہ میں حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے جامعہ ملک عبدالعزیز (اُس وقت مدینہ منورہ برانچ) میں داخلہ لیا، جہاں انہوں نے عربی زبان اور اسلامیات میں تخصص کیا۔
رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے مساجد میں منعقد ہونے والی دروسِ علم کی مجالس میں بھی باقاعدگی سے شرکت کی اور کئی ممتاز علما سے استفادہ کیا۔ ان کے اساتذہ میں نمایاں نام محمد الامین الشنقیطی، عطیہ محمد سالم اور ابو بکر الجزائری شامل ہیں۔
اسی طرح انہوں نے محمد بن صالح العثیمین اور عبدالعزیز بن باز جیسے جید علما کی علمی نشستوں میں بھی شرکت کی۔ ان شخصیات سے استفادہ نے ان کی علمی شخصیت کو توازن، اعتدال اور فکری پختگی عطا کی۔
نمایاں تدریسی اور انتظامی ذمہ داریاں
شیخ صالح المغامسی نے مختلف ادوار میں کئی اہم ذمہ داریاں سنبھالیں، جن میں شامل ہیں:
• 1992ء میں محکمہ تعلیم مدینہ منورہ کے شعبہ عربی زبان میں تربیتی نگران
• 1997ء میں حج کے دوران اسلامی آگاہی کمیٹی کے رکن
• 2001ء میں مدینہ منورہ کی جامع مسجد جامع ملک عبدالعزیز کے خطیب
• کالج آف ٹیچرز (کلیۃ المعلمین) میں تدریسی خدمات
• 2006ء میں مسجد قباء کے امام اور خطیب
• سعودی ٹیلی ویژن کے پہلے چینل پر سرکاری مفتی کے طور پر خدمات
• 2008ء میں امیرِ علاقہ کے فیصلے سے مرکز بحوث و دراسات المدینہ المنورہ کے ڈائریکٹر مقرر
ان مناصب نے ان کی علمی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید نکھارا اور انہیں قومی سطح پر متعارف کرایا۔
تصانیف اور دروسِ قرآن و حدیث
شیخ المغامسی نے اپنے علمی سفر کے دوران متعدد دروس اور کتب پیش کیں، جن میں سلسلہ ’محاسن التأویل‘، صحیح بخاری کی کتاب الرقاق کی شرح، مدائح نبویہ کی تشریح، قرآن کریم میں آیاتِ حج پر دروس، اشراط الساعة الكبرى اور قرآنی آیات کے بیانی پہلوؤں پر مبنی ’معالم بيانية في آيات قرآنية‘ نمایاں ہیں۔
اس کے علاوہ ان کے درجنوں صوتی دروس اور لیکچرز مختلف علمی پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں، جنہیں وسیع حلقۂ سامعین حاصل ہے۔
متوازن خطاب اور قومی مؤقف
شیخ صالح المغامسی کو ان کے معتدل اور متوازن اندازِ بیان کے باعث پہچانا جاتا ہے۔ وہ اپنے خطبات اور تحریروں میں مملکتِ سعودی عرب اور اس کی قیادت کے لیے حمایت اور خیرخواہی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے بارہا وطن کے امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا، فتنہ و انتشار سے دور رہنے کی تلقین کی اور اعتدال کے اصولوں کو اپنانے کی دعوت دی۔ ان کا مؤقف ہمیشہ حکمت، بصیرت اور قومی یکجہتی کے گرد گھومتا رہا ہے۔