مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے لاکھوں نمازیوں اور عمرہ زائرین نے شرکت کی۔
روح پرور فضا میں خشوع و خضوع اور سکون و اطمینان کی کیفیت نمایاں تھی، جس نے وقت کی عظمت اور مقام کی تقدیس کو ایک روحانی منظر میں اجاگر کیا۔
مزید پڑھیں
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مسجد الحرام کے برآمدے، صحن اور مطاف نمازیوں سے کھچا کھچ بھر گئے، جہاں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان عبادت میں مشغول دکھائی دیے۔
یہ منظر امتِ مسلمہ کے اتحاد اور اطاعتِ الٰہی پر دلوں کے اجتماع کی عکاسی کر رہا تھا۔
زائرین صبح سویرے ہی پہنچ گئے تھے اور ذکر و دعا میں منہمک ہو کر
اس بابرکت مہینے کی رحمتوں کو سمیٹنے میں مصروف رہے۔
نمازیوں کی سہولت اور آمد و رفت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی اقدامات ہم آہنگی کے ساتھ انجام دیے گئے۔
ہجوم کی تنظیم، داخلے اور اخراج کی سہولت، صفائی و جراثیم کشی، اور رہنمائی کی خدمات نے ایک پُرسکون اور منظم عبادتی ماحول فراہم کیا۔
نمازِ جمعہ کے دوران خشوع و خضوع کے ایمان افروز مناظر دیکھنے میں آئے اور دعاؤں کے لیے ہاتھ بلند ہوئے۔
اس موقع نے مسجد الحرام کی اس عظیم حیثیت کو مزید نمایاں کیا کہ وہ مسلمانوں کا قبلہ اور ان کے دلوں کا مرکز ہے، جہاں جذبات یکجا اور قلوب سربلند ہوتے ہیں۔
یہ روحانی منظر رمضان المبارک کے دوران بیت اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لیے جاری مسلسل کاوشوں کا تسلسل ہے، جس کا مقصد زائرین کو عظمتِ مقام اور جلالتِ زمان کے شایانِ شان عبادتی ماحول فراہم کرنا ہے۔
یہ حرمین شریفین کے حوالے سے مملکت کی خصوصی توجہ اور زائرین کو آسانی اور اطمینان کے ساتھ عبادت کی ادائیگی کا موقع فراہم کرنے کے عزم کا مظہر ہے۔
مزید پڑھیں
مسجد الحرام کے امام و خطیب عبدالله بن عواد الجهنی نے مسلمانوں کو تقویٰ الٰہی اختیار کرنے، اللہ تعالیٰ کی اسی طرح عبادت کرنے جیسے اس نے حکم دیا ہے اور خلوص کے ساتھ اس کی توحید پر قائم رہنے کی تلقین کی۔
انہوں نے اپنے خطبۂ جمعہ میں کہا کہ رمضان المبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی
دعوتِ الی اللہ، امورِ زندگی کی تنظیم، انسانیت کی اصلاح، امت کی سعادت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ تھی۔
ان کی حیات شب بیداری اور دن کی محنت سے عبارت تھی نہ وہ سستی و کاہلی میں گزرتی تھی اور نہ بے فائدہ مشاغل میں۔
شیخ نے واضح کیا کہ روزہ اس لیے فرض کیا گیا تاکہ مومن تقویٰ سے آراستہ ہو، جو ایمان کی بنیادوں میں سے ہے اور قبولیتِ اعمال کا سبب ہے۔
روزہ دار اپنے اعضاء کو محرمات سے روکتا ہے، ظلم، دھوکا، خیانت اور حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی سے بچتا ہے اور جھوٹ، غیبت، چغلی اور بدزبانی جیسے اقوالِ حرام سے اجتناب کرتا ہے۔
دوسری جانب مسجد نبوی میں جمعہ کے خطبے میں رمضان المبارک کو عظیم نفع، قبولیت اور جہنم سے آزادی کے موسم کے طور پر بیان کیا گیا۔
امام و خطیب شیخ ڈاکٹر صلاح البدير نے تقویٰ اختیار کرنے اور علانیہ و پوشیدہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس رکھنے کی نصیحت کی۔
انہوں نے کہا کہ رمضان کا چاند طلوع ہو چکا ہے اور اس موقع پر انسان کو اپنے بچھڑے ہوئے عزیز و اقارب کو یاد کر کے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
انہوں نے توبہ میں جلدی کرنے، وقت کے ضائع ہونے سے پہلے رجوع الی اللہ کی ترغیب دی، اور اس مہینے میں سنجیدگی اور محنت کے ساتھ عبادت کی تاکید کی، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں دیگر مہینوں سے زیادہ اجتہاد فرمایا کرتے تھے۔
انہوں نے مزید بیان کیا کہ یہ مہینہ قبولیت، سخاوت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے، اطاعت و عبادت میں بلندی حاصل کرنے کا زمانہ اور نیکیوں میں سبقت لے جانے کا سنہری موقع ہے۔
انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔