اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

کھجور کے 5 لاکھ درخت، 40 ہزار ٹن پیداوار، مارکیٹ میں رونق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
نجران میں ’البياض‘ اور ’المواكيل‘ کھجوروں کی پیداوار معروف ہے (فوٹو: واس)

کھجور سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں رمضان المبارک کے دسترخوان کا ایک بنیادی جزو سمجھی جاتی ہے اور ان علاقوں میں نجران نمایاں مقام رکھتا ہے، جو اپنی مشہور اقسام ’البياض‘ اور ’المواكيل‘ کی پیداوار کے لیے معروف ہے۔

یہ اقسام رمضان کے مہینے میں خریداروں میں بے حد مقبول ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ معیار اور نمایاں غذائی افادیت کی حامل ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق البياض اور المواكيل نجران کی بہترین اقسام میں شمار ہوتی ہیں۔ 

البياض کھجور اپنے ہلکے رنگ اور شیریں ذائقے کی بدولت ممتاز ہے اور اسے متعدد رمضانی پکوانوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ المواكيل اپنی نرم ساخت اور بھرپور ذائقے کے باعث افطار اور مہمان نوازی کے لیے پسندیدہ انتخاب سمجھی جاتی ہے۔

رمضان کے دوران نجران شہر کے تاریخی محلے ابا السعود میں واقع کھجور بازار میں خریداروں کا خاصہ رش دیکھنے میں آتا ہے۔ 

مقامی افراد افطار کی میز کے لیے کھجور کی خریداری کو ضروری سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ جسم کو طویل روزے کے بعد درکار قدرتی شکر فراہم کرتی ہے، نیز فائبر، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہونے کے باعث متوازن غذا کا درجہ رکھتی ہے۔

4546
فوٹو: واس

نجرانی معاشرے میں کھجور مہمان نوازی کی علامت بھی ہے، جہاں اسے قدیم روایاتِ کرم و استقبال کے تحت مہمانوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

نجران چیمبر آف کامرس کی زرعی کمیٹی کے سربراہ علی آل حارث نے کہا ہے کہ نجران میں 5 لاکھ سے زائد کھجور کے درخت موجود ہیں، جو سالانہ 40 ہزار ٹن سے زیادہ کھجور پیدا کرتے ہیں۔ 

یہ پیداوار تقریباً 2696 ہیکٹر رقبے پر پھیلے کھیتوں سے حاصل ہوتی ہے، جہاں روثانہ نجران، الشیشی، البرحی، المجدولی اور دیگر اعلیٰ معیار اور وافر پیداوار دینے والی اقسام کاشت کی جاتی ہیں، علاوہ ازیں البياض اور المواكيل جیسی مقامی مشہور اقسام بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نجران کا معتدل موسم اور زرخیز مٹی مختلف زرعی اجناس کی معیاری پیداوار میں معاون ثابت ہوتی ہے، جن میں کھجور سرفہرست ہے۔ 

4556446
فوٹو: واس

کھجور کی کاشت کو وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے ماتحت اداروں کی جانب سے بھرپور سرپرستی حاصل ہے، تاکہ مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھا جائے اور انہیں وژن 2030 کے پروگراموں اور اقدامات کے تحت مؤثر انداز میں مارکیٹ کیا جا سکے، جس کا مقصد زرعی وسائل کی قومی معیشت میں شراکت بڑھانا، غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور زرعی پائیداری کا حصول ہے۔