مصنوعی ذہانت کے دور میں ایک نئی تحقیق نے انسانی رویّوں میں موجود ایک دلچسپ تضاد کو اجاگر کیا ہے۔
مزید پڑھیں
تحقیق میں لوگوں نے کہا کہ وہ جذباتی حمایت انسان سے لینا چاہتے ہیں، لیکن جب انہیں تحریری ہمدردی کے پیغام دکھائے گئے تو انہوں نے مصنوعی ذہانت کے پیغامات کو زیادہ مؤثر اور دل چھونے والا قرار دیا۔
یہ تحقیق اس سوال کو نئی جہت دیتی ہے کہ آیا مشکل حالات میں انسان واقعی انسان کو ترجیح دیتا ہے، یا پھر ہمدردی کا انداز زیادہ اہم ہو جاتا ہے، چاہے وہ مشین ہی کیوں نہ ہو۔
یہ مطالعہ جرنل ’سائیکالوجی آف کمیونی کیشن‘ (Psychology of Communication) میں شائع ہوا ہے، جسے پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے محققین نے انجام دیا۔
تحقیق کے دوران شرکا کو مختلف مشکل حالات کے منظرنامے پیش کیے گئے، جن میں کچھ فرضی تھے جبکہ کچھ ان کی اپنی حقیقی زندگی کے تجربات سے متعلق تھے۔ اس دوران ان سے پوچھا گیا کہ وہ جذباتی ردعمل انسان سے لینا پسند کریں گے یا مصنوعی ذہانت سے۔
شرکا کے انتخاب کے بعد انہیں اسی ماخذ سے تحریری ردعمل دیا گیا اور پھر انہوں نے ان پیغامات کے اثرات اور ردعمل کا جائزہ لیا۔
اس تجربے میں سیکڑوں منفرد ہمدردانہ پیغامات استعمال کیے گئے، جنہیں ایک جانب چیٹ جی پی ٹی نے تیار کیا اور دوسری جانب تربیت یافتہ انسانی مصنفین، جن میں بحران سے نمٹنے والے ماہرین بھی شامل تھے۔
نتائج میں واضح تضاد
حیران کن طور پر اس تحقیق کے نتائج میں ایک واضح تضاد سامنے آیا۔ زیادہ تر شرکا نے کہا کہ وہ جذباتی حمایت انسان سے لینا چاہتے ہیں، مگر جب پیغامات کا تجزیہ کیا گیا تو اکثر افراد نے مصنوعی ذہانت کے تحریری پیغامات کو زیادہ ہمدردانہ، زیادہ منظم اور زیادہ سننے والا قرار دیا۔
تحقیق کے مرکزی مصنف جوشوا ڈی وینگر کے مطابق یہ منصوبہ جزوی طور پر سابقہ مطالعات سے متاثر تھا جن میں مصنوعی ذہانت کو ’ ہمدردی کے تناظر‘میں انسانوں سے بہتر قرار دیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس بار تحقیق مقصد براہِ راست یہ جانچنا تھا کہ جب لوگوں کو انتخاب دیا جائے تو وہ کس کو ترجیح دیتے ہیں۔
کیا سب نتائج یکساں تھے؟
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ تمام شرکا کی رائے ایک جیسی نہیں تھی۔ کچھ افراد نے متعدد مواقع پر مصنوعی ذہانت کو ترجیح دی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مخصوص حالات میں اے آئی کی ہمدردی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق عمومی رجحان یہ ہے کہ لوگ نظریاتی طور پر انسانی ہمدردی چاہتے ہیں، مگر جب وہ مصنوعی ذہانت کا تجربہ کرتے ہیں تو اس سے فائدہ بھی محسوس کرتے ہیں۔
کیا اے آئی انسانی ہمدردی کا متبادل ہے؟
جوشوا وینگر کے مطابق مصنوعی ذہانت کو انسانی ہمدردی کا متبادل نہیں بلکہ تکمیل کرنے والا سمجھنا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت تحریری انداز میں منظم، غیر جانبدار اور فوری ردعمل دے سکتی ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جہاں لوگ حساس یا شرمندگی محسوس کرنے والے موضوعات پر بات کرنا چاہتے ہوں۔
تاہم انسانی تعلق، جسمانی موجودگی اور خاموش انسانی تاثرات وہ عناصر ہیں جنہیں مشین مکمل طور پر نقل نہیں کر سکتی۔
آئندہ تحقیق کے منصوبے
محققین اس سلسلے میں مزید مطالعات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن میں یہ دیکھا جائے گا کہ :
• کیا تحریری پیغام اور مصنوعی آواز کے درمیان فرق اثر انداز ہوتا ہے؟
• حساس یا شرمندگی والے موضوعات میں لوگ کس کو ترجیح دیتے ہیں؟
• مختلف ثقافتی پس منظر کے افراد کے انتخاب کیسے بدلتے ہیں؟
ہمدردی کی تعریف بدل رہی ہے
یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ہمدردی کی ہماری روایتی سمجھ ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ لوگ انسانی قربت کو ترجیح دیتے ہیں، مگر جب بات الفاظ کی آتی ہے تو مصنوعی ذہانت کا منظم اور توجہ مرکوز انداز انہیں زیادہ سنا ہوا محسوس کرا سکتا ہے۔
یہ رجحان اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل میں جذباتی معاونت کا منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے، جہاں انسان اور مصنوعی ذہانت مل کر ایک نیا ماڈل تشکیل دیں گے، جو انسانیت اور ٹیکنالوجی کے درمیان توازن قائم کرے۔