الدرعیہ گورنریٹ میں واقع مسجد العودہ کی جامع توسیع اور تعمیر نو کا کام پراجیکٹ محمد بن سلمان کے تحت مکمل کرلیا گیا ہے، جس میں مسجد کی توسیع اور گنجائش میں نمایاں اضافہ کیا گیا جبکہ اس کی اصل نجدی طرزِ تعمیر کو بھی برقرار رکھا گیا۔
مزید پڑھیں
یہ تاریخی مسجد ریاض ریجن کے نمایاں مذہبی اور ثقافتی ورثے میں شمار ہوتی ہے اور محلے کی مرکزی جامع مسجد کی حیثیت رکھتی ہے۔
مسجد العودہ درعیہ کے محلہ العودہ میں وادی حنیفہ کے مغربی کنارے پر، سد العُلب جانے والی سڑک پر واقع ہے اور پورے محلے کے وسط میں قائم ہے۔ یہ علاقے کی واحد مسجد ہے جو محلے کی ابتدا اور اس کی عمرانی و سماجی ترقی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے
کہ اسے قدیم ترین ورثہ مساجد میں شمار کیا جاتا ہے۔
ابتدائی طور پر یہ مسجد مٹی سے تعمیر کی گئی تھی اور اس میں کئی برآمدے تھے جن کی چھتیں مثلثی پتھریلے محرابوں پر قائم تھیں جو پتھریلے ستونوں پر ٹکی ہوتی تھیں۔ یہ طرزِ تعمیر نجد کے روایتی مساجد کے انداز کی عکاسی کرتا تھا۔
مسجد کے جنوبی داخلی دروازے کے اوپر مربع شکل کا مینار تعمیر کیا گیا تھا جبکہ مشرقی جانب بھی ایک دروازہ موجود تھا۔ شمالی دیوار ملحقہ رہائشی مکانات سے جڑی ہوئی تھی جبکہ مغربی سمت ایک سادہ دیوار تھی جس کے وسط میں محراب تھا اور وہ ایک چھوٹے صحن کی جانب کھلتی تھی، جس کے اطراف چند مکانات موجود تھے۔
کئی برس تک یہ مسجد جمعہ کی نماز کا مرکزی مقام رہی جہاں شیخ عبدالعزیز السیاری خطبہ دیتے تھے۔ بعد ازاں 30 سال سے زائد عرصے کے بعد اسے جدید کنکریٹ اور دیگر جدید تعمیراتی مواد سے دوبارہ تعمیر کیا گیا اور جمعہ کے اجتماعات و درعیہ کے دیگر محلوں سے آنے والے نمازیوں کو جگہ دینے کے لیے اس کی چھت پر اضافی توسیع کی گئی۔
اس مقصد کے لیے لوہے اور شیٹوں سے ایک ہال تعمیر کیا گیا ہے، جس سے مسجد اور اس کے اطراف کے منظر میں دلکش تبدیلی آئی ہے۔
اگرچہ محلے کے بیشتر کچے مکانات اب یا تو منہدم ہو چکے ہیں یا جدید مواد سے دوبارہ تعمیر کیے جا چکے ہیں، تاہم مسجد آج بھی آباد ہے۔ قابلِ رہائش گھروں میں مقیم افراد اور سد کی جانب جانے والی سڑک سے گزرنے والے نمازی یہاں باقاعدگی سے عبادت کے لیے آتے ہیں۔
مسجد نجدی سعودی طرزِ تعمیر پر قائم ہے اور ماضی میں اس کی متعدد بار مرمت کی گئی، جن میں مقامی ماحول اور گرم صحرائی آب و ہوا کے مطابق مٹی اور قدرتی مواد استعمال کیے گئے۔
حالیہ ترقیاتی مرحلے میں مسجد کا رقبہ 794 مربع میٹر سے بڑھا کر 1,369.82 مربع میٹر کر دیا گیا جبکہ اس کی گنجائش 510 نمازیوں سے بڑھ کر 992 نمازیوں تک پہنچ گئی ہے۔ اس توسیع سے مسجد کے مذہبی اور سماجی کردار کو مزید تقویت ملی ہے جبکہ اس کی اصل معماری شناخت محفوظ رکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پراجیکٹ محمد بن سلمان برائے ترقیٔ تاریخی مساجد کا مقصد قدیم اور جدید تعمیراتی معیارات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے تاکہ مساجد کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے اور ترقیاتی عناصر کو تاریخی و ثقافتی خصوصیات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔
یہ کام عمارات ورثہ میں مہارت رکھنے والی سعودی کمپنیوں کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے، جس میں سعودی انجینئرز کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ہر مسجد کی اصل تاریخی شناخت کو برقرار رکھا جا سکے۔
یہ منصوبہ چار اسٹریٹیجک اہداف پر مبنی ہے جن میں تاریخی مساجد کو عبادت کے لیے بحال کرنا، ان کی اصل معماری شناخت کو زندہ رکھنا، مملکت کے تہذیبی پہلو کو اجاگر کرنا اور تاریخی مساجد کی مذہبی و ثقافتی حیثیت کو مضبوط بنانا شامل ہے۔
یہ تمام اقدامات وژن سعودی عرب 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں، جس کے تحت مملکت کی ثقافتی اور عمرانی خصوصیات کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید مساجد کے ڈیزائن میں بھی ان سے رہنمائی حاصل کی جا رہی ہے۔