سعودی عرب کی امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری دسمبر 2025 کے اختتام پر بڑھ کر 149.5 ارب ڈالر ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم نومبر 2025 کے مقابلے میں 707 ملین ڈالر زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت نے مسلسل دوسرے ماہ بھی اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔
سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو 2025 کے دوران سعودی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2024 کے اختتام پر سعودی عرب کے پاس امریکی ٹریژری بانڈز کی مالیت 137.5 ارب ڈالر تھی، جو ایک سال بعد دسمبر 2025 میں بڑھ کر 149.5 ارب ڈالر ہو گئی۔ اس طرح مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب امریکا کے بڑے بانڈ ہولڈرز میں 17ویں نمبر پر برقرار ہے، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس کی مستحکم پوزیشن ظاہر ہوتی ہے۔
دسمبر 2025 کے دوران سعودی سرمایہ کاری کی تقسیم کے مطابق 107.1 ارب ڈالر طویل المدتی بانڈز میں لگائے گئے، جو کل سرمایہ کاری کا 72 فیصد بنتے ہیں۔ جبکہ 42.5 ارب ڈالر قلیل المدتی بانڈز میں رکھے گئے، جن کا مجموعی حصہ 28 فیصد ہے۔
امریکی ٹریژری بانڈز رکھنے والے ممالک میں جاپان سرفہرست رہا، جس کی سرمایہ کاری 1185.5 ارب ڈالر تک پہنچی۔ اس کے بعد برطانیہ کا نمبر آیا، جس کے پاس 866 ارب ڈالر مالیت کے امریکی بانڈز موجود تھے۔