ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ مصنوعی ذہانت (AI) ہمارے مستقبل کو آسان بنائے گی، کام کے اوقات کم ہوں گے اور ہمیں تخلیقی سوچ یا آرام کے لیے زیادہ وقت ملے گا، لیکن ’ہارورڈ بزنس ریویو‘ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق نے اس خواب کو چکنا چور کر دیا ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق تحقیق بتاتی ہے کہ حقیقت اس دعوے کے بالکل برعکس ہے، کیونکہ اے آئی ٹولز کا استعمال سکون کے بجائے ملازمین کی تھکاوٹ اور ’برن آؤٹ‘ (Burnout) میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
چشم کشا تحقیق
’یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے‘ کے محققین نے ایک ٹیک کمپنی کے اندر 8 ماہ تک ایک تفصیلی مطالعاتی جائزہ لیا جس میں 200 ملازمین شامل تھے۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ کمپنی انتظامیہ کی جانب سے اہداف بڑھانے کا کوئی دباؤ نہیں تھا، لیکن ملازمین نے خود کو مشکل میں ڈال لیا۔
جب ملازمین نے دیکھا کہ اے آئی کی مدد سے کام جلدی ہو رہا ہے، تو انہوں نے بچے ہوئے وقت کو آرام یا ذاتی بہتری پر خرچ کرنے کے بجائے نئے کاموں سے بھر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کام کے اوقات لنچ بریک اور شام تک پھیل گئے اور دباؤ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا۔
ایک انجینئر نے اس حوالے سے اعتراف کیا کہ ’ہم نے سوچا تھا ہم کم کام کریں گے، لیکن ہم اتنا ہی یا اس سے زیادہ کام کرنے لگے۔‘
رفتار کا سراب
محققین نے اس صورتحال کو ’پروڈکٹیوٹی پیراڈوکس‘ (پیداواری تضاد) کا نام دیا ہے۔ اس حوالے سے ایک اور آزادانہ تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ ڈویلپرز کو اے آئی کے استعمال سے یہ غلط فہمی ہوئی کہ وہ 20 فیصد زیادہ تیزی سے کام کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں انہیں کام مکمل کرنے میں 19 فیصد زیادہ وقت لگا۔
یہ ’رفتار کا دھوکا‘ ملازمین کو تھکانے کا اہم سبب ہے۔ سب سے زیادہ خطرے میں وہ ملازمین ہیں جو ٹیکنالوجی کے لیے پرجوش ہیں۔ وہ اے آئی کے ذریعے کام جلدی نمٹا کر مزید کام کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں اور بلاوجہ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو نچوڑ لیتے ہیں۔
مسئلے کی وجوہات
رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کی چند بنیادی وجوہات ہیں:
• حدود کا نہ ہونا: جب کام تیزی سے ہونے لگتا ہے تو انکار کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اور ملازم سمجھتا ہے کہ اسے مزید کرنا چاہیے۔
• غیر اعلانیہ دباؤ: دفتری کلچر یہ بن جاتا ہے کہ ’اگر آپ زیادہ کر سکتے ہیں، تو آپ کو کرنا چاہیے۔‘
• ذہنی تھکاوٹ: اے آئی آسان اور روایتی کام نمٹا دیتا ہے، جس کے بعد انسان کے پاس صرف پیچیدہ اور مشکل کام رہ جاتے ہیں جو ذہن کو زیادہ تھکاتے ہیں۔
حل کیا ہے؟
تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ اے آئی بذاتِ خود بری چیز ہے، بلکہ اس کا طریقہ استعمال مسئلہ ہے۔ ماہرین چند حل تجویز کرتے ہیں:
• حدود کا تعین: بچ جانے والا وقت مزید کام کے لیے نہیں بلکہ آرام اور سوچ بچار کے لیے ہونا چاہیے۔
• پروڈکٹیوٹی کی نئی تعریف: کام کی مقدار کے بجائے اس کے اثرات (Impact) کو اہمیت دی جائے۔
• انتظامیہ کا کردار: اداروں کو چاہیے کہ وہ اے آئی کے فوائد کو ملازمین پر اضافی بوجھ میں تبدیل نہ کریں۔
درحقیقت ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اے آئی ایک طاقتور ٹول ہے، لیکن اگر اسے بغیر اصولوں کے استعمال کیا گیا تو یہ سہولت کے بجائے ایک ایسا بوجھ بن جائے گا جو سب سے زیادہ کام کرنے والے ملازمین کو ہی سب سے پہلے تھکا دے گا۔