اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

’رِنگ آف فائر‘ نایاب سورج گرہن آج ہوگا، سعودی عرب میں نظر نہیں آئے گا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

زمین پر آج بروز منگل نایاب سورج گرہن کا مشاہدہ کیا جائے گا، جسے ’رنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے۔ فلکیاتی سوسائٹی جدہ کے مطابق یہ خوبصورت نظارہ سعودی عرب یا کسی بھی عرب ملک کے آسمان پر نظر نہیں آئے گا۔

سائنس دانوں کے مطابق اس فلکیاتی عمل کے دوران چاند، زمین اور سورج کے درمیان سے گزرے گا، لیکن وہ سورج کو مکمل طور پر نہیں چھپا سکے گا۔

ring of fire sun eclipse 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حلقہ نما گرہن اس وقت رونما ہوتا ہے جب چاند اپنے مدار میں زمین سے دور ہوتا ہے اور حجم میں سورج سے چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔ اس صورتحال میں چاند سورج کے صرف درمیانی حصے کو ڈھانپتا ہے اور اس کے چاروں طرف سورج کی روشنی کا ایک چمکتا ہوا حلقہ باقی رہ جاتا ہے۔

سبق ویب سائٹ کے مطابق جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینئر ماجد ابو زاہرہ نے بتایا کہ گرہن کے دوران سورج کا ظاہری قطر اوسط سے 1.2 فیصد بڑا ہوگا، جبکہ چاند کا قطر اپنے اوسط حجم سے 2.2 فیصد چھوٹا ہوگا۔

چاند کا یہ چھوٹا حجم سورج کی قرص (دائرے) کو مکمل چھپانے کے لیے کافی نہیں ہے، اسی لیے یہ گرہن حلقہ نما صورت میں ظاہر ہوگا۔

ring of fire sun eclipse 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اس نادر مظاہرے کا راستہ براعظم انٹارکٹیکا کے دور افتادہ علاقوں اور گردو نواح کے سمندروں سے گزرے گا۔ اس وجہ سے براہ راست اسے دیکھنے کا موقع صرف محدود اور غیر آباد مقامات پر ہی میسر ہوگا۔ دنیا کے بیشتر حصے اس کے مکمل نظارے سے محروم رہیں گے۔

گرہن کے دوران حلقہ بننے کا دورانیہ انتہائی مختصر ہوگا جو 2 منٹ 20 سیکنڈ تک برقرار رہے گا، تاہم جزوی گرہن کے آغاز سے اختتام تک اس پورے فلکیاتی عمل کا کل وقت تقریباً 4 گھنٹے اور 31 منٹ پر محیط ہوگا۔

سعودی وقت کے مطابق جزوی گرہن کا آغاز دوپہر 12 بج کر 56 منٹ پر ہوگا، جبکہ حلقہ نما گرہن دوپہر 2 بج کر 42 منٹ پر شروع ہوگا۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں نظر نہ آنے کے باعث شائقین اسے صرف لائیو اسٹریم اور سائنسی کوریج کے ذریعے دیکھ سکیں گے۔

ring of fire sun eclipse 1
(فوٹو: انٹرنیٹ)

جنوبی امریکہ کے جنوبی حصوں، جنوب مشرقی افریقہ اور جنوبی سمندروں کے وسیع علاقوں میں یہ محض جزوی گرہن کے طور پر دیکھا جا سکے گا۔ یہ واقعہ فلکیاتی اجسام کے مداروں اور ان کی حرکت کی درستی کو سمجھنے کے لیے سائنسدانوں کو بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

عرب ممالک کے باشندے اس فلکیاتی واقعے کو اگرچہ آسمان پر نہیں دیکھ سکیں گے، لیکن یہ سائنسی طور پر اسلامی کیلنڈر کے قمری مہینوں کے آغاز کی تحقیق میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس وقت دنیا کی نظریں انٹارکٹیکا پر ہوں گی جہاں قدرت کا یہ شاہکار براہ راست دیکھا جا سکے گا۔