⚡
فیکٹ باکس: جنگ کی اصل تصویر
2022ء کی جنگ بندی کا خاتمہ اور وسیع علاقائی کشیدگی
یمن میں اقوام متحدہ کی جنگ بندی کے بعد عارضی خاموشی 2026ء میں شدید اور خونریز لڑائی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ تنازع اب صرف تعز اور مأرب کے محاذوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ریاض کے ہوائی اڈوں، خلیجی آئل روٹس اور اہم سمندری گزرگاہوں تک پھیل چکا ہے۔
✈️ ریاض ایئرپورٹ پر ڈرون خطرات
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کے واقعات کے بعد پروازیں معطل ہوئیں جنہیں بعد ازاں بحال کیا گیا، جس سے شہری ایوی ایشن پر خطرات عیاں ہوئے۔
👥 ڈھائی لاکھ شہریوں کی نئی نقل مکانی
اقوام متحدہ کے مطابق تازہ جھڑپوں سے 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد یمنی بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ تعز کے محاصرے سے بنیادی ضروریات اور ایندھن کی قیمتیں دگنی ہو گئیں۔
🌊 باب المندب اور آبنائے ہرمز پر دہرا دباؤ
بحیرہ احمر اور خلیج کے داخلی راستوں پر بحری تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی داؤ پر لگ چکی ہے، جس نے عالمی کنٹینر کمپنیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
🤝 مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ
7 اگست 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے باہمی سیکیورٹی فریم ورک طے کیا، جبکہ مصر نے سعودی خودمختاری کی غیر مشروط دفاعی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
یمن کی جنگ نے ایک بار پھر پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مزید پڑھیں
سعودی عرب کی اہم تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر حملوں کی اطلاعات، حوثیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اور بحری راستوں کو لاحق خطرات نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ کہیں یہ تنازع پورے خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے ڈرونز روکنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حوثیوں نے سعودی عرب کے شہر
مدینہ کی سمت ڈرون بھیجنے اور مملکت کے خلاف فوجی کارروائیاں کرنے کی تردید کی ہے۔
یمن جنگ کی آگ: کیا پورا خلیجی خطہ لپیٹ میں آئے گا؟
سعودی ہوائی اڈوں پر ڈرون خطرات، مکہ دفاعی معاہدے کا کردار اور باب المندب کی کشیدگی کا جائزہ
نئے انسانی المیے کی لہر 🚨
اقوام متحدہ کے مطابق لڑائی میں دوبارہ شدت آنے کے بعد لاکھوں بے گھر ہو گئے جبکہ تعز میں خوراک اور ایندھن کے نرخ دگنے ہو چکے ہیں۔
ریاض ایئرپورٹ پر ڈرون کشیدگی ✈️
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد پروازیں معطل ہوئیں، جنہیں سکیورٹی اقدامات کے تحت محدود پیمانے پر بحال کیا گیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی ڈھانچہ 🛡️
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے باہمی معاہدے کے تحت مشترکہ سلامتی پر زور دیا گیا، تاہم یہ یمن میں براہِ راست جنگ کا اعلان نہیں۔
باب المندب اور عالمی تیل مارکیٹ 🛢️
بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے خطرات سے تیل بردار جہازوں کے اخراجات اور پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ کا اندیشہ ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
دوسری جانب عالمی میڈیا کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو حملوں کے بعد معطل ہونے والی پروازیں محدود پیمانے پر بحال کردی گئی ہیں۔
یہ صورت حال بتاتی ہے کہ سعودی عرب کے لیے خطرہ صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہا۔
کیا حوثی واقعی خلیجی ممالک کو ایک وسیع جنگ میں دھکیل سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب یمن کی جنگ، اس کے علاقائی کردار اور خلیج کی معاشی اہمیت کو سمجھنے میں پوشیدہ ہے۔
اسلحہ اور حکمتِ عملی
حوثیوں کے ہتھیار کتنے خطرناک؟
+
کم خرچ خودکش ڈرونز بمقابلہ ملٹی ملین ڈالر دفاع
حوثی ملیشیا کے پاس چند ہزار ڈالر مالیت کے ایسے ڈرونز موجود ہیں جو کم بلندی پر اڑ کر ریڈار گرڈز کو چکمہ دے سکتے ہیں، جنہیں روکنے کے لیے سعودی عرب کو مہنگے انٹرسیپٹر میزائل داغنے پڑتے ہیں۔
طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ کروز و بیلسٹک میزائل
ان ہتھیاروں کی رینج یمن سے باہر خلیج کے گہرے تجارتی و شہری مراکز اور بندرگاہوں تک پہنچ چکی ہے، جو صنعتی پلانٹس اور ایئرپورٹس کے آپریشنز کو یکلخت معطل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بحری بارودی سرنگیں اور ڈرون کشتیاں (USVs)
باب المندب کے تنگ سمندری دہانے میں خودکار دھماکا خیز کشتیوں اور پانی میں تیرتی سرنگوں نے عالمی کارگو جہازوں اور آئل ٹینکرز کو مسلسل ہائی رسک پر ڈال رکھا ہے۔
حوثیوں کی طاقت
حوثی تحریک2014ء میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد ملک کی سب سے طاقتور مسلح قوتوں میں شامل ہوچکی ہے۔
مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔
French President Emmanuel Macron met Saudi Crown Prince Mohammed bin Salman in Riyadh. The Elysee Palace described the trip as a solidarity visit to the kingdom amid ongoing Houthi attacks. https://t.co/mrmsrBLnRd
— Open Source Intel (@Osint613) October 21, 2026
اس جنگ کے پیچھے اقتدار کی کشمکش کے ساتھ علاقائی رقابت بھی موجود ہے۔
سعودی عرب حوثیوں کی عسکری طاقت اور ایران سے ان کے تعلقات کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، جبکہ ایران حوثیوں کی حمایت کرتا رہا ہے، تاہم اس تحریک کی اپنی قیادت اور سیاسی مفادات بھی ہیں۔
2022ءکی اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ جنگ بندی سے کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی، لیکن 2026 میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرچکی ہے۔
سعودی عرب کی دفاعی طاقت
صلاحیت
🛡️ جدید فضائی انٹرسیپشن شیلڈ
مملکت کے پاس پیٹریاٹ PAC-3 بیٹریاں، جدید F-15SA لڑاکا طیارے اور مغربی انٹیلی جنس تعاون کی باقاعدہ سپورٹ موجود ہے، جس نے ماضی میں سیکڑوں بیلسٹک حملوں کو فضا میں ہی تباہ کر کے اہم شہری مراکز کو محفوظ بنایا۔
⚠️ مسلسل الرٹ اور رقبے کا پھیلاؤ
سعودی عرب کا چیلنج ٹیکنالوجی کی کمی نہیں بلکہ جزیرہ نما عرب کے وسیع جغرافیے پر موجود درجنوں ایئرپورٹس، ریفائنریز اور ڈیسیلینیشن پلانٹس کو بیک وقت 24 گھنٹے تحفظ فراہم کرنے کی بھاری لاجسٹک اور مالیاتی لاگت ہے۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دی ہیں، جبکہ یمن کے اندر حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان شدید اور خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔
میزائلوں کا خطرہ
سعودی عرب کے پاس جدید لڑاکا طیارے، فضائی دفاعی نظام اور بڑے پیمانے پر دفاعی وسائل موجود ہیں۔
اس کے باوجود ڈرونز اور میزائلوں کا خطرہ اس لیے پیچیدہ ہے کہ نسبتاً کم قیمت کے ہتھیار بھی ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری آبادی کے لیے بڑا مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔
ایک میزائل یا ڈرون کو روکنے کے لیے مہنگا دفاعی نظام استعمال کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ مسلسل حملے دفاعی وسائل اور نگرانی کے نظام پر دباؤ بڑھاتے ہیں۔
اسی لیے سعودی عرب کے لیے صرف حملوں کو ناکام بنانا کافی نہیں، بلکہ اسے اہم تنصیبات کی حفاظت، بروقت اطلاع اور متبادل انتظامات بھی مضبوط کرنا ہوں گے۔
⚠️
کیا پورا خلیج جنگ میں کودے گا؟
+
🛑 علاقائی شراکت داروں کا محتاط مؤقف
مصر اور دیگر عرب اتحادیوں نے واضح کیا ہے کہ وہ سعودی حدود کی خودمختاری کے تحفظ میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں، مگر یمن کے اندر براہِ راست زمینی جارحیت کا حصہ نہیں بنیں گے۔
💼 اقتصادی بقا اور سرمایہ کاری کا تحفظ
متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین اپنی منڈیوں اور وژن منصوبوں کو بچانے کے لیے کشیدگی کم کرنے کی حامی ہیں، کیونکہ وسیع جنگ کی قیمت پورے خلیجی انفراسٹرکچر کو ادا کرنی پڑے گی۔
🤝 عمان اور تہران کے سفارتی چینلز
بیک ڈور مذاکرات میں مسقط اور دیگر علاقائی ثالث سرگرم ہیں تاکہ حوثی دھمکیوں کو سیاسی فریم ورک میں روکا جا سکے اور لڑائی خلیج کے دوسرے ساحلوں تک نہ پہنچے۔
💥 خطرہ: ایک سنگین غلط حساب کتاب
اگر کسی ڈرون حملے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان یا تیل کی مرکزی تنصیب تباہ ہوئی تو دفاعی معاہدے فعال ہو سکتے ہیں، جس سے وسیع علاقائی اتحاد میدان میں آ سکتا ہے۔
تاہم سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت کو کم تر سمجھنا بھی درست نہیں ہے۔
جدید فضائی دفاع، مغربی ممالک کے ساتھ طویل دفاعی تعاون اور معاشی وسائل مملکت کو اہم برتری دیتے ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ یہ برتری مسلسل حملوں کے دوران کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
خلیج کیوں خطرے میں؟
یمن کی جغرافیائی حیثیت اس جنگ کو مزید خطرناک بناتی ہے۔ اس کے قریب واقع باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے یہ ایک اہم بحری راستہ ہے۔
Saudi Arabia plans to deploy up to 10,000 militants from Syria to Yemen to fight the Houthis — reports Proposed deal would offer $2,000 a month per fighter, with Syrian commanders visiting Saudi border regions to assess logistics Fighters include multiple nationalities https://t.co/OfAvGQM2Ba
— RT (@RT_com) October 21, 2026
اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے 9 اکتوبر کو سلامتی کونسل کو خبردار کیا تھا کہ یمن دوبارہ مکمل جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لڑائی کئی محاذوں تک پھیل چکی ہے، جبکہ باب المندب کے ساحلی علاقوں اور تعز کے اطراف بھی شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
پاکستان پر جنگ کے ممکنہ اثرات
📈 مقامی پیٹرولیم و بجلی کے بلوں میں اضافہ
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی سپلائی پر انحصار کرتا ہے؛ ترسیل کے خطرات سے تیل کے بین الاقوامی نرخ بڑھیں گے جس کا بوجھ عام شہری پر پڑے گا۔
👥 خلیج میں مقیم پاکستانی افرادی قوت
سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں مقیم 40 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے روزگار اور ترسیلاتِ زر کا تحفظ پاکستان کی ملکی معیشت کی سب سے بڑی لائف لائن ہے۔
🤝 مکہ معاہدہ: دفاعی عزم مگر براہِ راست جنگ نہیں
پاکستانی دفتر خارجہ واضح کر چکا ہے کہ مکہ معاہدہ سعودی سرزمین کے تحفظ اور ڈیٹرنس کے لیے ہے، اسے یمن میں فوج بھیجنے کا اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
⚖️ برادر ملک ایران اور سفارتی توازن
پاکستان کی اسٹریٹجک ضرورت ہے کہ وہ سعودی عرب کی خود مختاری کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ تہران کے ساتھ تعلقات متوازن رکھ کر ثالثی کا راستہ ہموار کرے۔
اہم توازن: پاکستان کا اصولی مؤقف خلیجی ریاستوں کی سلامتی کا مکمل دفاع ہے جبکہ اس کی سفارت کاری یمن میں پائیدار مذاکرات کے ذریعے آگ بجھانے پر مرکوز ہے۔
اگر اس راستے پر بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بڑھا تو تجارتی کمپنیوں کو طویل بحری راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس سے سامان کی ترسیل، انشورنس اور ایندھن کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے۔
بحیرہ احمر کے ساتھ آبنائے ہرمز بھی عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان دونوں گزرگاہوں میں بیک وقت عدم استحکام خلیجی معیشتوں اور عالمی منڈیوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
تیل اور معیشت
سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس لیے اس کی توانائی کی تنصیبات یا بحری ترسیل کو خطرہ صرف ریاض کا مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔
HR/VP @kajakallas addressed the European Parliament plenary on the escalation of Houthi attacks and their implications for regional security. She stressed that these attacks use terrorist tactics to spread fear among people in the region and beyond. The EU stands in full solidarity with the Kingdom of Saudi Arabia and the Government of Yemen. Read the full intervention: https://t.co/9sQPwZUxft
— European External Action Service - EEAS 🇪🇺 (@eu_eeas) October 21, 2026
رائٹرز کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات کے باعث تیل کی فراہمی کے بارے میں خدشات برقرار ہیں۔
اسی طرح خلیجی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مجموعی طور پر کمزوری دیکھی جا رہی ہے، اگرچہ مختلف ممالک کی مارکیٹوں میں صورت حال مختلف تھی۔
🛢️
تیل، تجارت اور مہنگائی کا خطرہ
معاشی بوجھ
🚢 بحری راستوں کی تبدیلی اور فریٹ چارجز
بحیرہ احمر کے غیر محفوظ ہونے پر کارگو جہازوں کو نہر سوئز چھوڑ کر افریقہ کا چکر لگانا پڑتا ہے، جس سے ترسیل میں دو ہفتوں کی تاخیر، انشورنس پریمیم میں سینکڑوں فیصد اضافہ اور درآمدات کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
📉 خلیجی اسٹاک مارکیٹس اور انرجی سپلائی
توانائی مراکز پر ڈرونز کی گونج سے خلیجی شیئرز مارکیٹ میں مندی دیکھی جا رہی ہے۔ دنیا کی کل ترسیل کا بڑا حصہ خطرے میں پڑنے سے عالمی طلب و رسد کا توازن درہم برہم ہو کر کساد بازاری لا سکتا ہے۔
پاکستانی عوام کے لیے اس بحران کا سب سے اہم پہلو تیل کی قیمتیں ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کے درآمدی بل، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مہنگائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم قیمتوں میں اضافے کا دارومدار صرف یمن کی جنگ پر نہیں، بلکہ عالمی رسد، طلب اور دیگر علاقائی تنازعات پر بھی ہوتا ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ کون ہے؟
سعودی عرب کو اس بحران میں عالمی سطح پر دفاعی اور سفارتی حمایت حاصل ہے۔
The Houthi attacks on our ally Saudi Arabia are dangerous for the region. Today @wesstreeting approved further UK military support for Saudi Arabia. RAF Typhoons will fly defensive air missions to protect Saudi airspace from drones and missiles. This builds on the air defence and air-to-air refueling support we have already provided. Video credit: @BBCNews
— Ministry of Defence 🇬🇧 (@DefenceHQ) October 20, 2026
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک کی سلامتی سے متعلق معاملہ قرار دیا گیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاع، دفاعی تعاون اور خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے، تاہم معاہدے کو یمن میں حوثیوں کے خلاف پاکستانی فوج کی براہِ راست کارروائی کا اعلان سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
🔭
اگلا وار کہاں، جنگ کا انجام کیا؟
»
🎯 اگلا ممکنہ ہدف: ساحلی بندرگاہیں اور لانچنگ زونز
یمنی حکومتی افواج کے ساتھ مل کر بین الاقوامی اتحاد الحدیدہ، باب المندب کے قریبی لانچ پیڈز اور حوثی اسلحہ ڈپوؤں کو فضائی کارروائیوں کا بنیادی ہدف بنائے گا تاکہ سمندری بلیک میلنگ روکی جا سکے۔
⚖️ منظرنامہ 1: طاقت کے توازن سے دوبارہ جنگ بندی
اگر حوثیوں کے حملے روکنے کے بعد تہران اور ریاض کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بحال ہو گئے تو اقوام متحدہ کے زیرِ نگرانی ایک نیا پائیدار فائر بندی فریم ورک وجود میں آ سکتا ہے۔
💥 منظرنامہ 2: ہمہ گیر تصادم اور بحری ناکہ بندی
اعتماد کے فقدان اور حملوں کے تسلسل کی صورت میں سعودی عرب کو اپنے دفاعی معاہدوں کے تحت اتحادیوں سے مدد لینی پڑے گی، جس سے یمن کی جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ کی معیشت کا گلا گھونٹ سکتی ہے۔
مصر نے بھی سعودی عرب کی سرزمین کے دفاع میں مدد دینے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے واضح کیا کہ مصر سعودی عرب کے دفاع میں مدد دے سکتا ہے، لیکن یمن پر جارحانہ کارروائی میں شریک ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
یہ فرق اہم ہے کہ سعودی عرب کی حمایت کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ تمام اتحادی یمن میں براہِ راست جنگ میں اتر جائیں گے، بلکہ ان کی ترجیح سعودی سرزمین کا دفاع، فضائی خطرات کا مقابلہ اور کشیدگی کو پھیلنے سے روکنا بھی ہو سکتی ہے۔
BREAKING: Britain will deploy Royal Air Force fighter jets to protect Saudi Arabia from Houthi attacks Following the Saudi requests amidst intensifying strikes from the Iran-backed Houthi militants, UK PM Burnham ordered the deployment of Typhoon fighter jets. https://t.co/Dv6Napg1zD
— Visegrád 24 (@visegrad24) October 20, 2026
یمن کے عوام کہاں جائیں؟
مبصرین کے مطابق اس جنگ کا سب سے بڑا انسانی نقصان خود یمن کے شہری اٹھا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھر چھوڑ چکے ہیں۔ تعز شہر میں راستے بند ہونے سے خوراک، ایندھن، پانی اور ادویات کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق تعز میں خوراک اور ایندھن کی دستیاب مقدار کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جبکہ اسپتالوں کو بجلی اور طبی آکسیجن کی قلت کا سامنا ہے۔
ایسے سنگین حالات میں لڑائی کا ایک اور دور لاکھوں افراد کے لیے زندگی مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
کیا جنگ رک سکتی ہے؟
فی الحال سب سے بڑی رکاوٹ فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی ہے۔
#VIDEO: Coalition spokesperson Maj. Gen. Turki Al-Maliki released footage showing the tracking and destruction of a Houthi ballistic missile launch platform used to fire a missile toward Riyadh on October 20. https://t.co/im6iECuGFf
— Saudi Gazette (@Saudi_Gazette) October 21, 2026
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات میں مدد دینے کی پیشکش کی تھی، لیکن دونوں جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کے لیے اپنی سرزمین اور شہریوں کا دفاع بنیادی ترجیح ہے، جبکہ حوثی اپنے سیاسی اور عسکری مفادات سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔
ایسے میں صرف فوجی حملوں سے مستقل امن قائم ہونے کی امید کمزور ہے۔
یمن کی جنگ اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے، جہاں ایک غلط فیصلہ پورے خطے کی سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے۔
سعودی عرب کی دفاعی طاقت اور عالمی شراکت داروں کی حمایت اہم ضرور ہیں، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب حملے رکیں، بحری راستے محفوظ ہوں اور یمن کے عوام کو معمول کی زندگی واپس مل سکے۔
پاکستان کے لیے بھی یہی سب سے اہم سوال ہے کہ کیا خطے کے ممالک دفاعی تعاون کے ساتھ سفارت کاری کو آگے بڑھا کر ایک وسیع جنگ روک سکتے ہیں، یا یمن کا بحران خلیج کی معیشت اور سلامتی کے لیے طویل خطرہ بن جائے گا؟