تمام مسلما نوں کا عقیدہ ہے کہ رسو ل اکرمﷺ کو بیدار ی کی حالت میں جسم و روح کے سا تھ ساتوں آسمان کا سیر کرایا گیا، جس کو سیرت اور حدیث کی کتابوں میں اسراء اور معراج کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور پھر مسجد اقصیٰ سے عرش الہی تک یہ طو یل ترین سفر رات کے صرف ایک حصہ میں انجام پایا ہے۔
رسول اکرمﷺ نے سفر اور اس میں پش آمدہ عجائب و واقعات کی اطلاع دی ہے، جس کی تفصیل مختلف کتب احادیث میں مذکور ہے۔
زمانہ نبوت میں بھی کفار مکہ نے اس کو جھٹلا کر اپنی عاقبت خراب کی تھی اور آج تک ہر زمانے میں ان کے متبعین پائے گئے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے کہ حق کے ساتھ باطل کا و جود قیامت تک با قی رہے گا۔
معراج نبوی کی تاریخ میں اگرچہ اختلاف ہے تاہم اکثر محققین کا اتفاق ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے اور سفر طائف کے بعد پیش آیا ہے اور یہ سفر آپﷺ کی دلداری، مکی زندگی میں بت پرستوں کی جانب سے کی گئی مخالفت اور خاص طو ر پر سفر طائف میں پیش آمدہ مصائب و مشکلات پر صبر کرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام واحسان تھا اس لئے قدرت نے سفر طائف کے بعد اور مکی دور کے اختتام سے پہلے یہ سیر کرایا جو در حقیقت اس بات کا اعلان تھا کہ اب تنگی اور مصیبت کے ایام ختم ہونے والے ہیں، ہجرت کا زمانہ قریب ہے، اب معراج اور ہجرت کے بعد کشادگی، فراخی اور خوشی کے ایام شروع ہوں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
ہجرت کے بعد مدینہ میں بہت جلد اسلامی ریاست قائم ہوگئی، سوائے چند لوگوں کے تما م قوموں نے آپﷺ کا بڑھ کر استقبال کیا، یہاں مسلمانو ں کو آزادی ملی اور کسی خوف وہراس کے بغیر ایک رب کی عبادت کی جانے لگی۔
کچھ ہی سال گزرے تھے کہ مخالفین زیر ہوگئے، مکہ فتح ہو ا اور چہار جانب سے و فود آنے لگے اور اسلام کا دائرہ اتنا وسع ہو ا کہ اہل باطل دم بخود ہوگئے۔
ظاہر ہے کہ واقعہ معراج کی شکل میں ر سول اکرمﷺ کو یہ عظیم بشارت اور پھر انعام ربانی کا تسلسل آپﷺ کے اس صبر کا نتیجہ تھا جو کفار مکہ کی اذیت پر کیا گیا، اگر آپﷺ صبر نہ کرتے اور بالفرض اہل مکہ یا سرداران طائف کی جانب سے پہنچائی گئی غر معمولی تکلیف، ومشقت پر شکوہ وشکایت کے الفاظ زبان مبارک پر جاری ہوتے توشاید یہ عظیم تحفہ آپﷺ کوحاصل نہ ہوتا۔
معراج میں آپﷺ کو اتنا اوپر اٹھایا گیا جو مادی کائنات سے ما ورا اور عقل انسانی کی سرحد سے با لاتر تھا، جہاں پہنچ کر حضرت جبریل علیہ السلام کے بھی پر جلنے لگتے ہیں۔
جس مقام تک کسی مخلوق کی رسائی نہ ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے، یہ وہ عرش عظیم ہے جس کے بعد اب اور کوئی مقام نہیں، اسی وجہ سے بعض عارفین اور اہل علم کا خیال ہے کہ رسول اکرمﷺ کو عرش تک سیر کرانے میں آپﷺکے ختم نبوت کی طرف اشارہ تھا۔
کتاب و سنت سے عرش کے بعد کسی مخلوق کا وجو د ثابت نہیں اسی طر ح نبوت ور سالت کے تما م کمالات آپﷺ پر ختم ہیں۔
اب آپﷺ کے بعد نبوت کا کوئی مقام نہیں چنانچہ تمام اہل توحید کا اتفاق ہے کہ نبو ت آپﷺ کی بعثت پر ختم ہوچکی ہے، قیامت تک کے لئے اسلام کو شریعت بنا کر نازل کیا گیا ہے۔
توحید کے سا تھ جس طرح رسالت کا اقرار ضروری ہے اسی طرح کامل ایما ن کے لئے ختم رسالت کا بھی اقرار ضروری ہے، اس کے بغیر ایمان معتبر نہیں۔
معتبر نصوص سے ثابت ہے کہ معراج سے قبل چوتھی مرتبہ آپﷺ کا سینہ چاک کیا گیا اور قلب اطہر کو آب زمزم سے دھو کر پھر اسی جگہ رکھ دیا گیا تاکہ آپﷺ کا دل مبارک عالم ملکوت کا سیر، تجلیات الہٰیہ اور آیاتِ ربانی کے مشاہدے اور اللہ تعالیٰ کی مناجا ت اور کلام کا تحمل کر سکے، گویا اللہ تعالیٰ نے اس عظیم نعمت کے لئے خود سے انتظام فرمایا اور احسان و اکرام کی تکمیل کے لئے قدرت کی طرف سے اس مبارک قلب کو قابل بنایا گیا۔
معلوم یہ ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو بڑا بنانا چا ہتے ہیں تو خود ان کی جانب سے اس کا انتظام بھی کر دیا جاتا ہے اسی لئے انسان کو حو صلہ بلند رکھنا چاہے۔
اپنی تنگیٔ بساط کی طرف نظر نہ کرے، اللہ تعالیٰ سے توفیق اور مقبولیت کی دعا مانگتا رہے۔
جب قبولیت کی گھڑی آئے گی تو خود بخود اس کا انتظام ہو جائے گا گویا شرعی احکام کی پا بندی ہمارا کام ہے اور اس پر بے پایاں رحمتو ں اور سعادتوں کی بارش برسانا اللہ کے ہا تھ میں ہے۔ وہ جس پر چا ہے اور جب چاہے گا بے انتہا اپنا فضل کرتا ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں، ساری دنیا اس کی محتاج ہے۔
معراج کا ایک اہم سبق اور پیغام نمازوں کا اہتمام بھی ہے۔ روزہ، زکوٰۃ، حج یہ سب اسلام کے بنیادی ارکان ہیں لیکن ان کی فرضیت حضرت جبریل امین کے ذریعے نازل کی گئی اور نماز ایسا فریضہ ہے جس کے لئے رسول اکرمﷺکو آسمان پر بلایا گیا اور بڑی عزت واکرام کے ساتھ نماز کا تحفہ عطا کیا گیا جس سے اس کی غیر معمولی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
قرآن شریف مں تقریباً 200 مقامات پر نماز کی تاکید، اس کے ادا کرنے پر خوشخبری اور نہ پڑھنے پر عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ احادیث میں بھی مختلف پہلوؤں سے نماز کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے شرائط، ارکان اور آداب کو اس قدر اہتمام سے بیان کیا گیا ہے کہ دوسرے ارکان کے بیان میں یہ اہتمام نہیں پایا جاتا۔
رسول اکرمﷺ کا طریقہ تھا کہ جو شخص اسلام میں داخل ہوتا، اس سے آپﷺ توحید کے بعد نماز کا عہد لیا کرتے تھے، وصال کے وقت جبکہ زبان مبارک سے پورے لفظ نہیں نکل رہے تھے، اس وقت بھی آپﷺ نے غلاموں کے حقوق کے ساتھ نماز کی تاکید فرمائی تھی۔
ایک انسان پر توحید و رسالت کے بعد جو عمل سب سے پہلے فرض ہوتا ہے وہ یہی نماز ہے۔خواہ مرد ہو یا عورت، غلام ہو یا آزاد، امیر ہو یا غریب جب تک ہوش وہواس باقی ہے، شریعت نے ہر بالغ شخص کو اس کا پابند بنایا اور اس کی تاکدی کی ہے۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب و کتاب ہوگا، اگر وہ اچھی اور پوری اتر آئی توباقی اعمال بھی پورے اتریں گے اور وہ خراب ہوگئی تو باقی اعمال بھی خراب نکلیں گے۔
گویا نماز آخرت کی کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی کنجی ہے اور قیامت کی ہولناکیوں اور اس دن پہنچنے والے غم، دکھ، درد سے بچنے کا ذریعہ بھی۔
یاد رہے کہ یہ ایسا دکھ ہے جس کی مدافعت کے لئے وہاں نہ کوئی درہم و دینار ہوگا، نہ دوستی اور محبت کام آئے گی،جس کا سلسلہ موت سے ہی شروع ہوجاتا ہے اور جو زندگی کے سارے دکھوں سے بڑھا ہوا ہوگا، اس لئے ایک عقلمند انسان کو دیگر عبادات واذکار کے ساتھ خاص طور پر نماز کے ذریعے اس عظیم دکھ سے نجات کا سامان فراہم کرنا چاہئے کہ نماز ہی دراصل آخرت کے غموں سے بچنے کی تدبیر اورراحت کا ذریعہ ہے۔
آج لوگ شب معرا ج بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں مگر ان کی زندگی نماز جیسی اہم ترین عبادت سے خالی ہوتی ہے جس کے لئے آپﷺکو آسمان پر بلایا گیا اور جس کے لئے اس مقدس اور با برکت سفر کا اہتما کیا گیا حالانکہ شب معرا ج کے تذکرے کا مقصد جہاں آپﷺ کے حیرت انگیز معجزے کا اظہار ہوتا ہے و ہیں اس کا بڑا مقصد اپنی زندگی کو اس سے ملنے والے دروس اور پیغام سے سنوارنا ہوتا ہے۔
صرف اس وا قعے کے تذکرہ سے ہماری ذمہ داری پوری نہیں ہوتی اور نہ یہ شریعت کا مقصد ہے بلکہ اس رات میں ہمیں نماز جیسی اہم عبادت کے فوت ہونے اور اس سے غفلت اور لا پروائی پر توبہ کرنی چاہئے اور آئندہ اس کے اہتمام کا عزم کرنا چاہئے کہ در حقیقت یہی شب معراج کی حقیقی قدر دانی اور اس کا صحیح استقبال ہے۔