بین الاقوامی فلکیات مرکز نے منگل کے روز غروبِ آفتاب کے وقت ہلال کی سمت دوربین یا ٹیلی اسکوپ استعمال کرنے سے خبردار کیا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق مرکز فلکیات کے ڈائریکٹر انجینئر محمد عودة نے کہا ہے کہ اس دن جزیرہ عرب کے آسمان میں ہلال سورج کے انتہائی قریب ہوگا، جس کے باعث براہِ راست رصد کا عمل نہایت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے آنکھوں کو مستقل یا عارضی اندھے پن کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ آلات کے خراب ہونے کا بھی شدید اندیشہ ہے۔
محمد عودة کے مطابق منگل کو غروبِ آفتاب کے وقت جزیرہ عرب کے تمام علاقوں میں ہلال سورج کے بالکل ساتھ ہوگا۔ ریاض میں غروب کے وقت سورج اور ہلال کے درمیان زاویائی فاصلہ صرف ایک ڈگری ہوگا اور یہ پیمائش دونوں قرصوں (سورج یا چاند کا دائرہ) کے مرکز کے درمیان ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہلال موجود بھی ہو تو وہ سورج کے کنارے سے تقریباً نصف ڈگری کے فاصلے پر ہوگا۔ ایسی صورت میں جب کوئی ٹیلی اسکوپ ہلال کی سمت کی جائے گی تو سورج یا اس کا کچھ حصہ آلات میں نظر میں آجائے گا، جو آنکھ اور آلے دونوں کے لیے خطرناک ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پیشہ ور فلکیاتی رصدگاہیں سورج کے قریب کسی بھی جرم کی طرف اپنے آلات نہیں موڑتیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کوئی شخص مکمل غروبِ آفتاب کا انتظار کرے تو اس وقت تک ہلال کا نچلا کنارہ بھی افق سے نیچے جا چکا ہوگا، لہٰذا تلاش کے لیے کوئی ہلال باقی نہیں رہے گا۔
مرکز نے وضاحت کے لیے 3 فلکیاتی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ پہلی تصویر میں ریاض سے غروب کے وقت سورج اور ہلال کی پوزیشن دکھائی گئی ہے، جس میں سرخ دائرہ ایک عام ٹیلی اسکوپ کے میدانِ نظر کی نمائندگی کرتا ہے ۔
واضح ہے کہ ہلال کے مرکز کی طرف نشانہ لینے پر سورج کا حصہ بھی اسی دائرے میں آجاتا ہے۔
محمد عودة نے اس بات کا بھی حوالہ دیا کہ سعودی مذہبی رہنما بھی وضاحت کر چکے ہیں کہ منگل کو ہلال کی قدریں رویت کی اجازت نہیں دیتیں۔ اسی سلسلے میں جامعہ ملک عبدالعزیز جدہ کے محقق اور فلکیات دان ملہم ھندی کی شائع کردہ تصویر کا ذکر کیا گیا، جس میں مختلف سعودی شہروں میں ہلال کی بلندی دکھائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ منگل کے روز سعودی عرب میں ہلال کی زیادہ سے زیادہ بلندی جازان میں ہوگی جو افق سے تقریباً نصف ڈگری ہے۔ تصویر کے بائیں جانب یہ بھی واضح کیا گیا کہ مملکت کے تمام علاقوں میں ہلال کی قدریں حد ابن تیمیہ سے کم ہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا تھا کہ اگر ہلال کا زاویائی فاصلہ 20 ڈگری ہو تو وہ نظر آجاتا ہے، اگر ایک ڈگری ہو تو نظر نہیں آتا اور 10 ڈگری کے آس پاس معاملہ مختلف ہوسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ڈگری یا اس سے کم بلندی پر ہلال نظر نہیں آسکتا۔
دوسری تصویر میں ملہم ھندی کی ایک ٹویٹ اور وضاحتی خاکہ شامل ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ منگل کو آسمان میں موجود جرم صرف چاند ہوگا، ہلال نہیں۔ چاند ہر روز آسمان میں ہوتا ہے، جبکہ ہلال چاند کی ایک مخصوص حالت ہے جس سے نئے ہجری مہینے کا آغاز وابستہ ہوتا ہے۔
عودة نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شرعی اعتبار سے اصل بنیاد ہلال کی رویت ہے، محض چاند کا موجود ہونا کافی نہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ منگل کو مشرقی عرب اور اسلامی ممالک میں چاند سورج سے پہلے غروب ہوگا، وسطی علاقوں میں اس کے ساتھ غروب ہوگا، جبکہ مغربی افریقہ میں چند منٹ بعد۔ اسی دن جنوبی افریقہ اور انٹارکٹیکا میں سورج گرہن بھی دیکھا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سورج گرہن دراصل چاند کے محاق کی انتہا کی علامت ہے اور جزیرہ عرب میں چاند گرہن کے بعد اتنی دیر تک نہیں رہے گا کہ وہ محاق سے نکل کر ہلال بن سکے۔ اس لیے جو چاند سورج کے بعد تقریباً ایک منٹ میں غروب ہوگا وہ محاق کا چاند ہوگا، ہلال نہیں۔
تیسری تصویر میں 17 فروری منگل کے روز غروبِ آفتاب کے وقت سورج اور چاند کی پوزیشن واضح کی گئی ہے۔ سیاہ لکیر افق کو ظاہر کرتی ہے، زرد دائرہ سورج کے مکمل غروب کا لمحہ دکھاتا ہے اور مدھم سرمئی دائرہ چاند کا ہے۔
تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب دنیا کے کئی علاقوں میں چاند کا نچلا حصہ سورج سے پہلے ہی غروب ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
محمد عودة کے مطابق تبوک وہ مقام ہے جہاں چاند سب سے زیادہ دیر تک ٹھہرتا ہے اور وہاں سورج کے مکمل غروب کے 27 سیکنڈ بعد چاند کا نچلا کنارہ غروب ہوتا ہے، جبکہ جازان وہ مقام ہے جہاں غروب کے وقت چاند کی بلندی سب سے زیادہ، یعنی تقریباً نصف ڈگری ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال زیادہ تر جزیرہ عرب اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر لاگو ہوتی ہے، تاہم مزید مغرب کی سمت افریقہ یا امریکہ میں حالات مختلف ہوسکتے ہیں۔