ڈی پی ورلڈ گروپ کے چیف ایگزیکٹو سلطان احمد بن سلیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق یہ پیشرفت ایپسٹین فائلز کی سامنے آنے والی تفصیلات کے بعد ہوئی ہے، جن میں سلطان احمد بن سلیم اور سزا یافتہ جیفری ایپسٹین کے درمیان دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے جاری کی گئی دستاویزات کے مطابق دونوں کے درمیان روابط کا آغاز 2007 میں ہوا تھا۔ فائلز میں بعض حساس نوعیت کی خط و کتابت کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
مزید یہ انکشاف بھی ہوا کہ 2016 میں جیفری ایپسٹین نے سلطان بن سلیم کے نام پر ایک فرضی کمپنی قائم کی، جس کے ذریعے 22.5 ملین ڈالر مالیت کا ایک کیریبین جزیرہ خریدنے کی کوشش کی گئی۔
یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب دو امریکی ارکانِ کانگریس نے تصدیق کی کہ مقدمے کی دستاویزات میں جن ناموں کو خفیہ رکھا گیا تھا، ان میں سلطان بن سلیم بھی شامل تھے۔ اس تصدیق کے بعد دبئی حکومت کی زیر ملکیت کمپنی ڈی پی ورلڈ پر دباؤ بڑھ گیا، جو عالمی سطح پر تیسرے بڑے بندرگاہ آپریٹر کے طور پر جانی جاتی ہے۔
استعفے کے بعد کمپنی کی جانب سے آئندہ قیادت اور انتظامی امور سے متعلق مزید تفصیلات جاری کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔