مملکت میں غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل غیر ملکی ماہرین و پیشہ ور افراد کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق حکومت نے 1028 سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو باضابطہ طور پر اس پروگرام میں شامل کر لیا ہے جس میں غیر سعودی ملازمین مخصوص شرائط پوری کرنے کی صورت میں ’ خصوصی اقامت‘حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔
مزید پڑھیں
واضح رہے کہ اس سے قبل 3484 نجی اداروں کو بھی اس مقصد کے لیے منظور کیا جا چکا ہے تاکہ وہاں کام کرنے والے ماہرین کو بھی اس خصوصی رہائشی حیثیت کا موقع مل سکے۔
خصوصی اقامت کا یہ پروگرام دراصل سائنسی، انتظامی اور تحقیقی شعبوں میں نمایاں کارکردگی رکھنے والی اعلیٰ صلاحیتوں کو متوجہ کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد ایسے ممتاز ماہرین کو
سعودی معاشرے میں پیشہ ورانہ اور خاندانی استحکام فراہم کرنا ہے جو اپنی مہارت اور تجربے کے ذریعے مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، علم کی منتقلی کو فروغ دینے اور سرکاری شعبوں میں جدت و اختراع کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکیں۔
اس اقدام کے ذریعے محققین، سینئر منتظمین، طبی ماہرین اور سائنسی شخصیات کو خصوصی طور پر ہدف بنایا گیا ہے تاکہ وہ طویل مدت تک سعودی نظام کا حصہ بن سکیں۔
اس خصوصی اقامت کے حامل فرد اور اس کے خاندان کو متعدد غیر معمولی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جن میں غیر ملکیوں اور ان کے اہل خانہ پر عائد مالی فیس سے مکمل استثنا بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ حاملِ اقامت کو بغیر ویزا خود خروج و عودہ کی سہولت، سرحدی گزرگاہوں پر شہریوں اور خلیجی ممالک کے شہریوں کے لیے مختص راستوں کے استعمال کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔
پیشہ ورانہ استحکام کے حوالے سے اقامت رکھنے والا فرد مختلف اداروں میں باآسانی ملازمت تبدیل کر سکتا ہے جبکہ اس کے اہل خانہ کو نجی شعبے میں کام کرنے کی اجازت بھی دی جاتی ہے۔
مزید برآں اسے سرمایہ کاری، کاروبار کرنے اور قوانین کے مطابق جائیداد رکھنے کا حق حاصل ہوتا ہے، جبکہ مقررہ مدت اور اہلیت کی شرائط پوری کرنے پر مستقل اقامت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
مرکزِ خصوصی اقامت کے مطابق اس پروگرام کے لیے اہلیت کے واضح معیار مقرر کیے گئے ہیں۔ تحقیقی، سائنسی اور طبی شعبوں کے امیدواروں کے لیے ترجیحی تخصص میں ملازمت کا معاہدہ، کم از کم 14 سے 35 ہزار سعودی ریال ماہانہ تنخواہ، کم از کم 3 سال کا تجربہ اور منظور شدہ پوائنٹس سسٹم یا تحقیقی کام کی شرط شامل ہے۔
اسی طرح اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز افراد کے لیے کم از کم 80 ہزار ریال ماہانہ تنخواہ اور ادارے کی جانب سے باضابطہ سفارشی خط لازمی قرار دیا گیا ہے۔
خصوصی اقامت ابتدائی طور پر 5 سال کے لیے جاری کی جاتی ہے جس کی تجدید ممکن ہوتی ہے، جبکہ 5 سال کے دوران مجموعی طور پر 30 ماہ قیام اور دیگر شرائط پوری کرنے پر مستقل اقامت حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس پروگرام کی فیس 4 ہزار سعودی ریال مقرر کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے جن 1028 سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کو اس پروگرام میں شامل کیا گیا ہے ان میں بڑے قومی ادارے، جامعات، وزارتیں، سرکاری محکمے، بلدیاتی ادارے، تحقیقاتی مراکز، طبی ادارے، مالیاتی و اقتصادی تنظیمیں، سیکیورٹی و دفاعی ادارے، توانائی، تعلیم، صحت، صنعت، مواصلات، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، ماحولیات، سیاحت، میڈیا، کھیل، خلائی تحقیق اور دیگر اہم قومی شعبوں سے وابستہ سیکڑوں ادارے شامل ہیں۔
ان اداروں میں کام کرنے والے غیر سعودی ماہرین، سائنسدان، ڈاکٹرز، محققین، اعلیٰ منتظمین اور دیگر ممتاز پیشہ ور افراد اگر مقررہ معیار پر پورا اتریں تو انہیں ’ خصوصی اقامت‘حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا، جسے سعودی عرب میں اعلیٰ مہارت رکھنے والے عالمی ٹیلنٹ کو متوجہ کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔