ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ
مکہ مکرمہ
روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ تقویٰ، تزکیہ اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔
اللہ کی رحمت کے حصول کے لئے بندے کی سعی، ارادہ اور طلب شرط ہے، بندہ ایک قدم بڑھائے تو ربِ کریم اس کی طرف کئی قدم بڑھتا ہے۔
مزید پڑھیں
روزہ دار کا روزہ سحری سے شروع ہو رہا ہے۔
سحور، سنت رسولﷺ ہے، ارشاد نبویؐ ہے ’اے مسلمانو! سحری کیا کرو، یقینا اس میں تمہارے لئے برکت ہے‘۔
یاد رہے کہ جملہ برکات کا مرجع خالق کی ذاتِ گرامی ہے تو سحری کا عمل روزہ دار کو رحمن رحیم رب سے وابستہ کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتا ہے، نیز آپﷺ نے فرمایا کہ ’اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے
سحری کرنے والوں پر درود بھیجتے ہیں‘۔
نیز فرمایا ’ہمارے اور اہل کتاب کے روزہ میں فرق ہمارا سحری کرنا ہے‘۔
دیکھئے سحری کے عمل نے روزہ دار کو نہ صرف خالق سے وابستہ کیا بلکہ اسے اس کی رحمت کا مستحق ٹھہرایا۔ سحری خیر امت کا طرہ امتیاز ہے۔
پھر سحری میں جاگنا، روزہ دار کے لئے سحری کے دیگر لوازمات کو آسان بنا دیتا ہے۔
وہ وضو کرتا ہے، نفل نماز پڑھ لیتا ہے، تو بہ و استغفار کرتا ہے، فجر کی سنتیں اور فرض ادا کرتا ہے اور یہی اقامت الصلاۃ اہل تقویٰ کی دوسری نمایاں صفت ہے۔
رمضان کی ابتدا سحری سے ہوتی ہے جو سنت اور باعثِ برکت ہے۔
اس کے ذریعے بندہ نماز، ذکر اور استغفار کے ساتھ دن کا آغاز کرتا ہے۔
روزہ صبح سے شام تک حلال چیزوں سے بھی رکنے کی مشق ہے تاکہ انسان حرام سے بچنے کا عادی بنے۔
افطار کے وقت اخلاص اور دعا مومن کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔
رمضان کی راتوں کا قیام، تلاوتِ قرآن اور تراویح اس مہینے کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے افضل ہے، اس لیے آخری عشرے میں عبادت کا خصوصی اہتمام ضروری ہے۔
یہ مہینہ صبر، ہمدردی اور ایثار کا بھی درس دیتا ہے۔
روزہ دار بھوک پیاس کے ذریعے دوسروں کی حاجات کو محسوس کرتا اور ان کی مدد کی ترغیب پاتا ہے۔
افطار کرانا، چاہے ایک کھجور یا پانی سے ہو، بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ رمضان رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔
اس میں فرائض اور نوافل کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے، اس لیے عام عبادات میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔
زبان کی حفاظت، کلمہ طیبہ، استغفار، جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ مانگنا بھی اہم ہدایات ہیں۔
حقیقی کامیابی اسی کی ہے جو رمضان کو ایک تربیتی مدرسہ سمجھ کر تقویٰ کی دولت حاصل کرے اور اس کے اثرات سارا سال برقرار رکھے۔
یہی بامقصد روزے کا اصل حاصل ہے۔