صدیوں سے انسان یہ سوال پوچھتا آیا ہے کہ زندگی صرف زمین ہی پر کیوں پروان چڑھی؟ کیا اس کی وجہ صرف پانی اور آکسیجن کی موجودگی تھی؟
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس تصور کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زندگی کے آغاز کے لیے دو مزید بنیادی عناصرفاسفورس اور نائٹروجن بھی ناگزیر تھے۔ یہی عناصر ڈی این اے اور پروٹینز کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، جو ہر زندہ خلیے کی بنیاد ہیں۔
یہ تحقیق سوئٹزرلینڈ کے معروف ادارے ETH Zurich (سوئس فیڈرل
انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، زیورخ) کے سائنسدانوں نے کی ہے اور اسے سائنسی جریدے Nature Astronomy میں شائع کیا گیا ہے۔
مطالعے کے مطابق زندگی کے آغاز کو سمجھنے کے لیے فاسفورس اور نائٹروجن کی موجودگی اور ان کا مناسب توازن کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
کائنات کی تشکیل
تحقیق کے سربراہ کریگ والٹن، جو ’Origin and Prevalence of Life‘ مرکز سے وابستہ ہیں، کے مطابق کسی بھی سیارے کے وجود میں آنے کا ابتدائی مرحلہ فیصلہ کن ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیارے کی تشکیل کے دوران آکسیجن کی مقدار نہایت متوازن ہونی چاہیے تاکہ فاسفورس اور نائٹروجن سطحی تہوں میں محفوظ رہیں اور زندگی کے امکانات برقرار رہیں۔
4.6 ارب سال پہلے زمین کی تشکیل
تقریباً 4.6 ارب سال قبل گرد و غبار اور گیس کا ایک کائناتی بادل سکڑ کر سورج اور سیاروں میں تبدیل ہوا۔ زمین کی اس تشکیل کے دوران بھاری دھاتیں نیچے کی طرف جا کر مرکزی کور (لب) بن گئیں جبکہ ہلکے عناصر نے مینٹل اور سطحی پرتیں تشکیل دیں۔
اگر اس عمل کے دوران آکسیجن کی مقدار کم ہوتی تو فاسفورس زمین کے لب میں چلا جاتا اور اگر زیادہ ہوتی تو نائٹروجن خلا میں خارج ہو جاتا۔ دونوں صورتوں میں زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا دستیاب نہ رہتے۔
زمین کی مثالی پوزیشن
زمین کو اکثر ’قابلِ رہائش زون‘ میں ہونے کی وجہ سے منفرد سمجھا جاتا ہے۔
سائنس دان بتاتے ہیں کہ قابلِ رہائش زون وہ فاصلہ ہے جہاں کسی سیارے کی سطح پر پانی مائع حالت میں برقرار رہ سکتا ہے۔ اگر سیارہ سورج کے بہت قریب ہو تو پانی بخارات بن جاتا ہے اور اگر بہت دور ہو تو جم جاتا ہے۔
لیکن نئی تحقیق کے مطابق زمین کی خصوصیت صرف حرارتی توازن تک محدود نہیں تھی، بلکہ کیمیائی توازن بھی اتنا ہی اہم تھا۔ زمین پر وہ تمام عناصر ایک ہی وقت میں مناسب مقدار میں موجود تھے جو زندگی کے لیے ضروری تھے۔
مریخ کیوں پیچھے رہ گیا؟
اگرچہ مریخ بھی کسی زمانے میں قابلِ رہائش زون میں تھا، مگر تحقیق کے مطابق وہاں فاسفورس اور نائٹروجن کی مقدار زندگی کے لیے کافی نہیں تھی۔
یہی فرق ظاہر کرتا ہے کہ صرف صحیح درجہ حرارت کافی نہیں، بلکہ کیمیائی ساخت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
زندگی کی تلاش کا نیا زاویہ
یہ تحقیق خلائی سائنس میں زندگی کی تلاش کے لیے ایک نیا نقطۂ نظر پیش کرتی ہے۔
اب سائنس دان صرف پانی یا درجہ حرارت پر نہیں بلکہ سیاروں کی کیمیائی ساخت، خاص طور پر فاسفورس اور نائٹروجن کی دستیابی کو بھی اہمیت دیں گے۔ مزید یہ کہ سورج جیسے ستاروں کے گرد موجود سیاروں کو ترجیح دی جا سکتی ہے، کیونکہ ایسے نظام میں زمین جیسے کیمیائی توازن کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
زندگی ، ایک نازک توازن
نئی تحقیق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زمین پر زندگی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ انتہائی نازک اور درست کیمیائی توازن کا حاصل ہے، جہاں پانی، آکسیجن، فاسفورس اور نائٹروجن، یہ سب ایک ساتھ، مناسب مقدار میں اور درست وقت پر موجود تھے۔
شاید یہی وہ منفرد امتزاج تھا جس نے زمین کو کائنات میں زندگی کا مسکن بنا دیا اور ہمیں یہ سمجھنے کا موقع دیا کہ ہم واقعی کتنے نادر اور خاص سیارے پر بستے ہیں۔