ایک نادر فلکی مظاہرے میں رمضان المبارک کے چاند کی رویت کا دن سورج کے حلقوی گرہن، جسے ’رِنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے، کے ساتھ موافق ہو رہا ہے۔
رمضان کے چاند کی پیدائش اور سورج گرہن، اس ہم زمانی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے:
کیا گرہن ہلال کی رویت پر اثر انداز ہو سکتا ہے؟
اور کیا یہ بابرکت مہینے کے آغاز کے لیے کوئی غیر معمولی علامت رکھتا ہے؟
جب کہ لاکھوں افراد اعلانِ رویت کے منتظر ہیں اور پس منظر میں فلکیاتی حسابات پوری دقت کے ساتھ جاری ہیں۔
مزید پڑھیں
منگل 17 فروری کو رواں سال کا پہلا سورج گرہن وقوع پذیر ہوگا۔
حلقوی گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند حالتِ اقتران میں سورج کے سامنے سے گزرتا ہے مگر زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہونے کی وجہ سے وہ سورج کو پوری طرح نہیں ڈھانپ پاتا۔
یوں سورج ایک روشن حلقے کی صورت میں نظر آتا ہے جو سیاہ دائرے کو گھیرے ہوتا ہے، اسی لیے اسے ’آگ کا حلقہ‘ کہا جاتا ہے۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ یہ گرہن اسلامی ممالک اور عالمِ عرب میں دکھائی نہیں دے گا۔
اس کا مکمل مشاہدہ صرف بر اعظم انٹارکٹیکا کے بعض علاقوں میں ممکن ہوگا جبکہ جزوی طور پر اسے جنوبی امریکہ اور جنوبی افریقہ کے چند حصوں میں دیکھا جا سکے گا۔
کیا ہلالِ رمضان متاثر ہوگا؟
اس سوال کا واضح جواب ماہرینِ فلکیات نے دے دیا ہے۔
ان کے مطابق سورج گرہن کا ہلالِ رمضان کی رویت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ دونوں مظاہر عملی طور پر الگ ہیں۔
گرہن حالتِ اقتران میں ہوتا ہے، یعنی فلکیاتی طور پر نئے مہینے کے آغاز کے وقت لیکن شریعتِ اسلامی میں نئے مہینے کا ثبوت سورج غروب ہونے کے بعد ہلال کی رویت پر موقوف ہے۔
دوسرے لفظوں میں، گرہن خود اقتران کے وقوع پذیر ہونے کی علامت تو ہے مگر وہ نہ تو ہلال کو چھپاتا ہے اور نہ ہی اس کی رویت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ہلال کی رویت درج ذیل عوامل پر منحصر ہوتی ہے:
غروبِ آفتاب کے بعد اس کے قیام کی مدت
افق سے اس کی بلندی
فضا کی شفافیت
جبکہ گرہن ایک عارضی فلکی واقعہ ہے جو عرب اور اسلامی خطے کے آسمان پر کوئی بصری اثر نہیں چھوڑے گا۔
یہ ہم زمانی توجہ کا باعث کیوں بنی؟
اس لیے کہ ایک مذہبی موقع، جو ماہِ صیام کے آغاز سے جڑا ہو اور ایک نادر فلکی مظہر کا بیک وقت ہونا منظر کو غیر معمولی رنگ دے دیتا ہے۔
یہ گویا علم اور روحانیت کا سنگم ہے، ایک طرف دقیق فلکی حسابات، اور دوسری جانب ہر سال دہرایا جانے والا عملِ رویت۔
تاہم سائنسی اعتبار سے سورج گرہن کا اعلانِ رمضان پر کوئی براہِ راست اثر نہیں ہوگا۔
البتہ دو ہفتے بعد 3 مارچ کو، چاند گرہن بھی رونما ہوگا جسے شمالی امریکہ، آسٹریلیا اور مشرقی ایشیا کے بعض علاقوں میں دیکھا جا سکے گا اور یوں اس سال فلکی مظاہر کا سلسلہ جاری رہے گا۔
نتیجہ واضح ہے:
’آگ کا حلقہ‘ نہ ہلالِ رمضان کو چھپائے گا اور نہ ہی رویت کے اصولوں کو تبدیل کرے گا۔