اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

کیا آپ جانتے ہیں بستر میں کتنی مخلوقات چھپی ہیں؟ ماہرین کا انتباہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

اکثر لوگ خراٹوں اور خراب نیند کو سانس کی بیماری، ناک کی ساخت یا سونے کی پوزیشن سے جوڑتے ہیں، مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مسئلہ بستر کے اندر چھپی ننھی مخلوقات بھی ہو سکتی ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق بستر، تکیوں اور چادروں میں بسنے والے جراثیم، فنگس اور گرد کے کیڑے (ڈسٹ مائٹس) نہ صرف الرجی کو بڑھاتے ہیں بلکہ خراٹوں اور رات کے وقت سانس لینے میں دشواری کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

بستر جراثیم کا پسندیدہ ماحول

dirty bed bacteria fungus sleeping 2
(فوٹو: اے آئی)

ہر رات انسانی جسم سے پسینہ، جلد کے مردہ خلیات اور نمی خارج ہوتی ہے۔ یہی اجزا بیکٹیریا، فنگس اور گرد کے کیڑوں کے لیے بہترین خوراک بن جاتے ہیں۔

لیسٹر یونیورسٹی میں کلینیکل مائیکرو بایولوجی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر پرائم روز فریسٹون کے مطابق انسانی جلد لاکھوں بیکٹیریا اور فنگس اپنے ساتھ رکھتی ہے، جو نیند کے دوران بستر میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ ماحول ڈسٹ مائٹس کی افزائش کے لیے سازگار ہو جاتا ہے۔

گرد کے کیڑے اور خطرات

dirty bed bacteria fungus sleeping 3
(فوٹو: اے آئی)

ڈسٹ مائٹس خود تو نظر نہیں آتے، مگر ان کے فضلات ناک بہنے، ناک بند ہونے، دمہ اور ایکزیما جیسی علامات کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔

جب یہ ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں تو مدافعتی نظام ہسٹامین خارج کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ناک کی اندرونی جھلی سوج جاتی ہے۔ اس سوجن سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے اور اکثر افراد منہ کے ذریعے سانس لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو خراٹوں اور نیند میں خلل کا باعث بنتا ہے۔

جرنل آف الرجی، استھما اینڈ کلینیکل امیونولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق گرد کے کیڑوں سے الرجی رکھنے والے تقریباً 70 فیصد افراد نیند کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں، جن میں نیند کی خرابی، بار بار جاگنا اور خراٹے شامل ہیں۔

پرانے تکیے اور فنگس کا خطرہ

ماہرِ متعدی امراض ڈیوڈ ڈیننگ کے مطابق رات کے وقت جسم کی حرارت، پسینہ اور جلد کے ذرات مل کر تکیوں میں فنگس کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول بناتے ہیں۔

اس حوالے سے کیے گئے ٹیسٹ کے دوران بعض پرانے تکیوں میں فی گرام 21 لاکھ (2.1 ملین) زندہ فنگس اسپورز پائے گئے، جو ایک تشویشناک اشارہ ہے۔

گیلے بالوں کے ساتھ سونا خطرناک

dirty bed bacteria fungus sleeping 4
(فوٹو: اے آئی)

یونیورسٹی آف ایریزونا کے ماحولیاتی مائیکرو بایولوجی کے پروفیسر چک جربا خبردار کرتے ہیں کہ گیلے بالوں کے ساتھ سونا تکیے میں نمی بڑھا دیتا ہے، جس سے فنگس کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے۔

یہ عادت سر کی جلد میں فنگل انفیکشن اور کیل مہاسوں کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔

بستر پر پالتو جانور لانا

dirty bed bacteria fungus sleeping 5
(فوٹو: اے آئی)

پرائم روز فریسٹون نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ پالتو جانوروں کو بستر پر سونے کی اجازت دینا بیکٹیریا اور پیراسائٹس کی منتقلی کا سبب بن سکتا ہے۔

ان میں سالمونیلا جیسے جراثیم بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو معدے کی سوزش اور اسہال کا باعث بنتے ہیں۔ بعض مطالعات کے مطابق یہ بیکٹیریا بستر پر کئی دنوں یہاں تک کہ برسوں تک بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

صحت مند نیند ، مگر کیسے؟

dirty bed bacteria fungus sleeping 6
(فوٹو: اے آئی)

برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) سے وابستہ ماہرین کی سفارشات کے مطابق:
• چادریں اور تکیوں کے غلاف کم از کم ہفتے میں ایک بار دھوئے جائیں۔
• اگر زیادہ پسینہ آتا ہو یا انفیکشن ہو تو زیادہ بار دھوئیں۔
• دھلائی کا درجہ حرارت کم از کم 60 ڈگری سینٹی گریڈ ہو تاکہ جراثیم ختم ہو سکیں۔
• تکیوں کو ہر 4 سے 6 ماہ بعد دھویا جائے۔
• گدوں کو ہفتہ وار ویکیوم کیا جائے۔
• دھونے کے بعد بھاپ والی استری استعمال کی جائے۔

کمرے میں ہوا کے گزر کی اہمیت

dirty bed bacteria fungus sleeping 7
(فوٹو: اے آئی)

یونیورسٹی کالج لندن کے انڈور انوائرمنٹ کے ماہر مائیک اوریسزکزن کے مطابق نمی والے گھروں میں صرف صفائی کافی نہیں۔

روزانہ کمرے کی ہوا کی نکاسی، ڈی ہیومیڈیفائر کا استعمال اور گھر کو مناسب درجہ حرارت پر رکھنا فنگس کی افزائش کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح دن کے وقت لحاف کو کھلا چھوڑ دینا گدے کی نمی کم کرنے کا آسان طریقہ ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ خراٹوں اور خراب نیند کی وجوہات ہمیشہ پیچیدہ طبی مسائل نہیں ہوتیں۔ بسا اوقات مسئلہ بستر کی صفائی اور نمی کے کنٹرول سے جڑا ہوتا ہے۔

باقاعدہ صفائی، مناسب وینٹی لیشن اور صحت مند عادات نہ صرف الرجی کو کم کرتی ہیں بلکہ سانس لینے کو آسان اور نیند کو زیادہ پُرسکون بنا سکتی ہیں۔ اس طرح بستر کی معمولی دیکھ بھال رات کے سکون اور مجموعی صحت میں نمایاں فرق ڈال سکتی ہے۔