اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

ریاض میں رمضان کے خیموں کے لیے نئے ضوابط جاری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

ریاض میں رواں سال رمضان المبارک کے دوران لگنے والے کیمپس کے لیے نئے ضوابط اور شرائط جاری کیے گئے ہیں، جن کا مقصد عوامی تحفظ، خدمات کا معیار بہتر بنانا اور موسمی سرگرمیوں کو منظم انداز میں چلانا ہے۔

مزید پڑھیں

متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اب رمضان المبارک میں کیمپس غیر منظم یا عارضی سرگرمی نہیں رہے بلکہ انہیں باقاعدہ قواعد کے تحت چلایا جائے گا، لہٰذا کسی بھی خیمے کے قیام سے پہلے عارضی اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

اس سلسلے میں مزید بتایا گیا ہے کہ درخواست خیمہ لگانے سے پہلے جمع کرانا ہوگی، جس میں مقام، رقبہ، گنجائش، دورانیہ اور سرگرمی کی 

نوعیت واضح کرنا ضروری ہوگا، خواہ خیمہ افطار کے لیے ہو، سحری کے لیے یا کسی اور اضافی پروگرام کے لیے۔

sahar and iftar ramadan camps in riyadh 2
(فوٹو: اے آئی)

اجازت نامے جاری کرنے اور نگرانی کی ذمے داری’امانتِ منطقہ ریاض‘ کے پاس ہوگی، تاہم اگر خیمہ کسی ہوٹل یا سیاحتی مقام کے اندر لگایا جائے تو وزارتِ سیاحت کی منظوری بھی درکار ہوگی۔ اگر خیمے کے ساتھ تفریحی پروگرام یا کوئی اسٹیج شو رکھا جائے تو جنرل اتھارٹی برائے تفریح کی اجازت بھی ضروری ہوگی۔

نئے ضوابط کے تحت رمضان المبارک کے دوران سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات پر خاص زور دیا گیا ہے، جس کے تحت خیموں میں آگ سے محفوظ مواد کا استعمال لازمی ہوگا، واضح ایمرجنسی راستے بنانا ہوں گے، اسموک ڈیٹیکٹر اور الارم سسٹم نصب کرنا ہوگا، مناسب تعداد میں آگ بجھانے کے آلات رکھنا ہوں گے اور راستوں یا دروازوں کو سامان یا فرنیچر سے بند نہیں کیا جا سکے گا۔

نئے ضوابط میں صحت اور خوراک سے متعلق بھی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔ تمام کارکنوں کے پاس کارآمد ہیلتھ سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہوگا، خوراک کو محفوظ رکھنے اور ذخیرہ کرنے کے منظور شدہ اصول اپنانا ہوں گے، کھانے کی تیاری اور پیشکش کے مقامات صاف اور علیحدہ ہوں گے جب کہ فوڈ سیفٹی کے تمام معیار پر عمل کرنا ہوگا۔

حکام نے شور اور اردگرد کے ماحول سے متعلق بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن کے مطابق مقررہ آواز کی حد سے تجاوز نہیں کیا جا سکے گا، مخصوص اوقات کے بعد بیرونی اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور قریبی رہائشی علاقوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچائی جا سکے گی۔

sahar and iftar ramadan camps in riyadh 3
(فوٹو: اے آئی)

ہجوم اور پارکنگ کے حوالے سے خیمہ منتظمین کو مناسب تعداد میں پارکنگ کا انتظام کرنا ہوگا، داخلے اور اخراج کا واضح منصوبہ بنانا ہوگا اور رش سے بچاؤ کے لیے ایک ذمہ دار سپروائزر مقرر کرنا ہوگا جو آپریشن کے اوقات میں حفاظتی ہدایات پر عملدرآمد کی نگرانی کرے۔

ہوٹلز اور سیاحتی اداروں کے اندر لگنے والے خیموں پر اضافی شرائط بھی لاگو ہوں گی، جن میں قیمتوں کا واضح اعلان، غیر اعلانیہ فیس نہ لینا، سیاحتی درجہ بندی کے معیار پر عمل اور صارفین کے تحفظ کے قوانین کی پابندی شامل ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں ریاض میں رمضان خیموں کا معیار بہتر ہوا ہے اور بعض مقامات مکمل سماجی مراکز کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں منظم اور محفوظ ماحول میں افطار و سحر کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق نئے ضوابط جان و مال کے تحفظ، بہتر خدمات اور صارفین کے اعتماد کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے اور ریاض میں رمضان سرگرمیوں کو مزید پیشہ ورانہ اور منظم بنائیں گے۔