کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے نجی شعبہ فورم 2026 کے موقع پر ملک کے ممتاز قومی رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز کے ساتھ 7 مفاہمتی یادداشتوں) پر دستخط کیے ہیں۔
ان کا مقصد ایئرپورٹ کے احاطے میں کثیر المقاصد رئیل اسٹیٹ منصوبوں کو فروغ دینا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق یہ اقدام ایئرپورٹ کے اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جو تقریباً 57 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے، جس میں سے قریباً 12 مربع کلومیٹر رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
اس کے تحت رہائشی کمیونٹیز، تجارتی و تفریحی مراکز، دفتری و مہمان نوازی کی سہولیات سمیت جدید شہری منصوبے اعلیٰ ترین معیار کے مطابق تیار کیے جائیں گے۔
ان شراکت داریوں کے ذریعے ایئرپورٹ اپنے حدود کے اندر دستیاب رئیل اسٹیٹ مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پائیدار ترقی اور مربوط انفراسٹرکچر کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
یہ اقدامات نجی شعبے کے تعاون سے ایک ہمہ گیر شہری ماحول کی تشکیل میں معاون ہوں گے، جو جدید شہری منصوبہ بندی کے اعلیٰ معیارات پر مبنی ہوگا اور ہوا بازی، رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اور طرزِ زندگی کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کرے گا۔
کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسٹریٹجک اور انقلابی قومی منصوبہ ہے، جو ریاض کو عالمی دار الحکومت اور ہوا بازی کے مرکزی مرکز کے طور پر مستحکم کرنے کے مملکت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ ایئرپورٹ ریاض میں موجودہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مقام پر قائم ہوگا، جس میں موجودہ ٹرمینلز کے ساتھ تین نئے ٹرمینلز، رہائشی و تفریحی اثاثے، 6 رن ویز اور جدید لاجسٹک سہولیات شامل ہوں گی۔
57 مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ ایئرپورٹ 2030 تک سالانہ 10 کروڑ مسافروں کو خدمات فراہم کرنے کی گنجائش رکھے گا جبکہ کارگو کی سالانہ استعداد 20 لاکھ ٹن سے تجاوز کر جائے گی۔