مصر میں آوارہ کتوں اور بلیوں کے کاٹنے کے کیسز میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جب کہ ان واقعات کی مجموعی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے، جس کی وجہ سے طبی اداروں میں ایمرجنسی نافذ ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق مصر میں آوارہ اور پاگل کتوں کے حملوں کا سلسلہ تاحال نہیں رک سکا۔ تازہ واقعہ شمالی مصر کے صوبے کفرالشیخ میں پیش آیا، جہاں پاگل کتے نے ایک ہی گاؤں کے 13 افراد پر حملہ کر کے انہیں شدید زخمی کر دیا، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور طبی اداروں کو ہنگامی حالت میں کام کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاگل کتے نے مرکز الحامول کے گاؤں غرب تیرہ میں مسجد کے قریب لوگوں پر اچانک حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 13 افراد کو جسم کے مختلف حصوں میں گہرے زخم آئے، جنہیں فوری طور پر بلطیم اسپیشلسٹ اسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کے زخم کان، بازوؤں، ٹانگوں اور جسم کے دیگر حصوں پر ہیں، جنہیں ضروری علاج اور حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند گھنٹے قبل ہی جنوبی سینا کے شہر راس سدر میں بھی آوارہ کتوں کے حملے میں ایک بچہ بری طرح زخمی ہوا اور کتوں نے بچے کے جسم کے کچھ حصے نوچ لیے۔
اس واقعے کے بعد جنوبی سینا کے گورنر خالد مبارک نے فوری طور پر الطور میں واقع الفیروز میڈیکل کمپلیکس کا دورہ کیا اور بچے کی حالت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
مصری وزارت صحت کے متعلقہ شعبے کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025ء تک ملک بھر میں آوارہ کتوں اور بلیوں کے کاٹنے کے کیسز کی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس نے صحتِ عامہ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی کے تحت ملک کے تمام صوبوں میں ویکسین اور اینٹی ریبیز سیرم کی فراہمی بڑھا دی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر نقصان کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی ہے۔
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل حکومت نے اس مسئلے پر سنجیدہ اقدام کرتے ہوئے آوارہ جانوروں سے نمٹنے کے لیے قومی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا، جس میں انہیں آبادی والے علاقوں سے دُور منتقل کرنا، ویکسی نیشن اور نس بندی کے عمل کو وسیع کرنا شامل ہے۔
سربراہ محکمہ ویٹرنری سروسز ڈاکٹر حامد موسیٰ کے مطابق منصوبے کے تحت مصر کے 27 صوبوں میں مخصوص مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ قاہرہ، جیزہ، قلیوبیہ اور اسکندریہ میں زمین مختص کی جا چکی ہے۔
اس کے علاوہ جانوروں کو منتقل کرنے کے لیے خصوصی گاڑیاں بھی فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق جانوروں کے ساتھ سلوک کو یقینی بنایا جا سکے۔