وزارتِ تعلیم کے ماتحت قومی تعلیمی پیشہ ورانہ ترقیاتی ادارے نے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے تحت کام کرنے والے الیکٹرانک گیمز گروپ سافی کے ساتھ تین مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں۔
ان جن کا مقصد الیکٹرانک گیمز کی صنعت اور ترقی کو عمومی تعلیم، یونیورسٹی تعلیم اور تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت کے نظام اور نصاب میں شامل کرنا ہے۔
مزید پڑھیں
اخبار 24 کے مطابق دستخط کی تقریب وزارتِ تعلیم کے صدر دفتر، ریاض میں منعقد ہوئی، جس میں گروپ کے نائب چیئرمین شہزادہ فیصل بن بندر بن سلطان آل سعود، وزیرِ تعلیم یوسف البنیان، قومی تعلیمی پیشہ ورانہ ترقیاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ العودہ، تطویر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد المحیمید اور تعلیمی نظام کے متعدد قائدین و ذمہ داران نے شرکت کی ہے۔
مفاہمتی یادداشتیں نصاب، پروگراموں اور تربیتی اقدامات کی ترقی، تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور مستقبل کی مہارتوں کی حمایت کے لیے جدید پیشہ ورانہ راستوں کے اجرا، تعلیمی اقدامات اور مقابلوں کے آغاز، طلبہ و اساتذہ اور قومی صلاحیتوں کی مہارتوں کے فروغ اور جدید تکنیکی حل، مصنوعی ذہانت اور تعلیمی سمیولیشن سے استفادہ کو ممکن بنانے کا ہدف رکھتی ہیں۔
تعاون کے اہم شعبوں میں قومی مرکز برائے نصاب کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت نصاب میں الیکٹرانک گیمز کا ادراج، الیکٹرانک گیمز کی تیاری اور ترقی کے لیے قومی سطح کے مقابلے کا ڈیزائن اور نفاذ، خادم الحرمین الشریفین اسکالرشپ پروگرام اور ’واعد‘ ٹریک کے ذریعے اہل قومی افرادی قوت کی تیاری، ادارے کے تعاون سے اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، سافی اکیڈمی کو اسٹریٹجک شراکت داری کے اداروں میں شامل کرنا، ’مدرستی‘ پلیٹ فارم پر تعلیمی گیمز کی تیاری، اور سافی گیمز و انوویشن لیب کا قیام شامل ہیں۔
اسی طرح ادارے اور سافی گروپ کے درمیان تعاون کے شعبوں میں اساتذہ کی صلاحیتوں کی ترقی اور جدید تدریسی طریقوں کو اپنانے میں ان کی معاونت، گیمز کے شعبے میں معتمد تربیتی راستوں کی تیاری اور ان کے اثرات کی پیمائش، مصنوعی ذہانت میں اساتذہ کی مہارتوں کو فروغ دینے والے اقدامات کی ابتکار اور گیم پر مبنی تعلیم سے متعلق ورکشاپس، فورمز اور خصوصی تقریبات کا انعقاد شامل ہے۔