خالد نواز چیمہ
جدہ
’ہمارے بعد ہمارے بچوں کا کیا ہوگا؟‘
یہ جملہ اُن ماں باپ کی بے بسی کی عکاسی کرتا ہے جن کی زندگی اپنے خصوصی بچوں کے گرد گھومتی ہے۔
یہی وہ درد ہے جسے مشعلِ راہ فاؤنڈیشن نے اپنی طاقت بنایا اور پاکستان میں ہزاروں معذور بچوں کے لیے امید کا چراغ روشن کیا۔
اکڑ بکڑ بمبے بو، اسی نوے پورے سو۔ سو میں لگا دھاگا، چور نکل کے بھاگا۔ سپاہی بن کے آؤں گا، اچھا کھانا کھاؤں گا۔ ریل بولی چکھا چکھ، نان پاؤ بسکٹ۔اکڑ بکڑ بمبے بو، اسی نوے پورے سو۔ سو میں لگا دھاگا، چور نکل کے بھاگا۔ سپاہی بن کے آؤں گا، اچھا کھانا کھاؤں گا۔ ریل بولی چکھا چکھ، نان پاؤ بسکٹ۔ اکڑ بکڑ بمبے بو، اسی نوے پورے سو۔ سو میں لگا دھاگا، چور نکل کے بھاگا۔ سپاہی بن کے آؤں گا، اچھا کھانا کھاؤں گا۔ ریل بولی چکھا چکھ، نان پاؤ بسکٹ۔
مشعلِ راہ فاؤنڈیشن محض ادارہ نہیں بلکہ ماں کی دعا، باپ کی امید اور بچے کی مسکراہٹ کا نام ہے۔
یہ فاؤنڈیشن خصوصی بچوں کے لیے مشعل اقراء، مشعل نور، مسکن، مشعل روزگار، مشعل ہنر اور مشعل شفا جیسے منفرد پروگرامز کے ذریعے تعلیم، علاج، تربیت اور خود کفالت کی راہیں ہموار کر رہی ہے۔
یہاں وہ بچے جو چل نہیں سکتے، دیکھ نہیں سکتے یا ذہنی معذوری کا شکار ہیں، انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
ادارہ خصوصی بچوں کے لیے تفریحی و سماجی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کرتا ہے جہاں یہ ننھے فرشتے بے فکری سے ہنستے کھیلتے ہیں اور یہی لمحات اُن والدین کے لیے زندگی کی سب سے بڑی خوشی بن جاتے ہیں۔
یہ عظیم سفر دو ایسی بہادر ماؤں نے شروع کیا جن کے اپنے بچے معذوری کا شکار تھے۔
انہوں نے اپنے ذاتی کرب کو اجتماعی خدمت میں بدلتے ہوئے پاکستان بھر کے مجبور خاندانوں کے لیے سہارا بننے کا فیصلہ کیا اور آج مشعلِ راہ ہزاروں گھروں میں امید کی شمع روشن کر رہی ہے۔
اسی سلسلے میں جدہ میں مشعلِ راہ فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک تعارفی تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی قونصل جنرل پاکستان جدہ سید مصطفی ربانی تھے۔
انہوں نے اپنے جذباتی خطاب میں فاؤنڈیشن کے منتظمین کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے قوم کا فخر ہوتے ہیں۔
قونصل جنرل نے اعلان کیا کہ آئندہ مشعلِ راہ اپنی آگاہی تقریبات پاکستانی قونصلیٹ میں بھی منعقد کر سکے گی۔
اس موقع پر انہیں فاؤنڈیشن کی جانب سے تعارفی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔
تقریب سے مشعلِ راہ کی سعودی عرب میں نمائندہ ڈاکٹر رخشندہ پوری، فاؤنڈر آمنہ آفتاب، فاؤنڈیشن کی صدر اریج فاروق اور پاکستان انوسٹر فورم کے صدر چوہدری شفقت محمود دھول نے بھی خطاب کیا اور خصوصی بچوں کے روشن مستقبل کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
مشعلِ راہ آج اُن والدین کے لیے ڈھارس ہے جو راتوں کو جاگ کر اپنے بچوں کے کل کے بارے میں سوچتے ہیں اور اُن بچوں کے لیے زندگی کی نئی امید ہے جو خاموشی سے دنیا کا سامنا کر رہے ہیں۔
مشعلِ راہ صرف ایک فاؤنڈیشن نہیں، یہ انسانیت کی خدمت کا روشن استعارہ ہے۔