عام طور پر ڈپریشن کو محض نفسیاتی یا جذباتی عارضہ سمجھا جاتا ہے، مگر جدید سائنسی تحقیق اور مطالعات سے پتا چلا ہے کہ اس کے اثرات صرف دماغ تک محدود نہیں رہتے بلکہ جسم کے دیگر نظاموں حتیٰ کہ ہڈیوں کی صحت تک کو متاثر کر سکتے ہیں۔
العربیہ کے مطابق ایک نئی تحقیق نے پہلی بار تفصیل سے اس تعلق کو واضح کیا ہے جسے ماہرین دماغ–ہڈی محور (Brain–Bone Axis) کا نام دے رہے ہیں، جو خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے لیے شدید تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
اتفاق نہیں، ایک باقاعدہ نظام
چینی محققین کا یہ جائزہ سائنسی جریدے Biomolecules میں شائع ہوا ہے، جس کے مطابق ڈپریشن اور ہڈیوں کی کمزوری (آسٹیوپوروسس) محض اتفاقی طور پر اکٹھے نہیں پائے جاتے بلکہ دونوں کے درمیان ایک مشترکہ فزیولوجیکل نظام موجود ہے، جو دماغ اور ہڈیوں کے درمیان دو طرفہ رابطہ قائم کرتا ہے۔
ہڈیاں کوئی ڈھانچہ نہیں، متحرک عضو ہیں
ماضی میں ہڈیوں کو صرف جسم کا ایک سخت فریم سمجھا جاتا رہا ہے، جس کا کام سہارا دینا اور اندرونی اعضا کی حفاظت کرنا ہے، تاہم جدید تحقیق نے یہ تصور بدل کر رکھ دیا ہے، جس کے مطابق ماہرین اب ہڈیوں کو ایک فعال حیاتیاتی عضو قرار دیتے ہیں، جو ہارمونز اور پروٹینز خارج کرتا ہے اور جسم کے دور دراز حصوں، بشمول دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ہڈیوں سے دماغ تک پیغام
تحقیق میں خاص توجہ اوسٹیوکیلسیَن (Osteocalcin) نامی ہارمون پر دی گئی ہے، جو ہڈیوں کے ذریعے پیدا ہوتا ہے اور دماغ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ ہارمون بلڈ–برین بیریئر کو عبور کر کے دماغی افعال اور موڈ پر اثر ڈالتا ہے۔ اس حوالے سے محققین نے مشاہدہ کیا کہ:
• ڈپریشن کے مریضوں میں اوسٹیوکیلسیَن کی سطح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔
• جیسے جیسے مریض کی ذہنی حالت بہتر ہوتی ہے، اس ہارمون کی مقدار میں کمی آتی ہے۔
یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہڈیوں کی صحت اور موڈ کے نظم کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔
ڈپریشن ہڈیوں کو کمزور کرتا ہے
ہڈیاں کمزور ہونا کوئی یک طرفہ فطری عمل نہیں ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ڈپریشن خود بھی ہڈیوں کی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والا ڈپریشن دماغ میں اسٹریس رسپانس سسٹم کو حد سے زیادہ متحرک کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں:
• کورٹی سول ہارمون کی سطح بڑھ جاتی ہے۔
• جسم میں سوزش کے عوامل میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ دونوں عوامل ہڈیوں کی کثافت میں کمی اور ہڈیوں کے بھربھرے پن کو تیز کرنے کے لیے معروف ہیں۔
خطرناک چکر
مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ یہ باہمی تعلق ایک شیطانی دائرہ بنا سکتا ہے۔ یعنی ڈپریشن ہڈیوں کو کمزور کرتا ہے جبکہ ہڈیوں کی کمزوری اور اس سے جڑا درد حرکت میں کمی اور خودمختاری کا نقصان دوبارہ ڈپریشن کو بڑھا دیتا ہے۔
خصوصاً بزرگ افراد میں یہ چکر تیزی سے صحت کے مجموعی معیار کو گرا سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر دماغ–ہڈی محور کو تسلیم کر لیا جائے تو مریضوں کے علاج کا طریقہ بدل سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپریشن اور آسٹیوپوروسس کو الگ الگ بیماریوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں آپس میں جڑی ہوئی حالتیں سمجھ کر ایک جامع حکمتِ عملی اپنانا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر عمر رسیدہ مریضوں کے لیے۔
علاج کے امکانات
اس تحقیق کے نتیجے میں علاج کے کئی نئے راستے سامنے آتے ہیں، جن میں ایسے ورزشی پروگرام جو دماغ–ہڈی محور کو متحرک کریں یا ایسی ادویات جو ہڈیوں سے دماغ تک جانے والے سگنلز کو ہدف بنائیں۔ اس کے علاوہ جدید نیورل اسٹیمولیشن تکنیکیں جو موڈ اور جسمانی صحت دونوں پر مثبت اثر ڈال سکیں، شامل ہیں۔
محققین اس بات پر متفق ہیں کہ مزید وسیع کلینیکل آزمائشیں اب بھی ضروری ہیں تاکہ اس تعلق کو علاج کے عملی میدان میں مکمل طور پر بروئے کار لایا جا سکے۔ حالیہ تحقیق ایک بار پھر اس حقیقت کو تقویت دیتی ہے کہ ذہنی اور جسمانی صحت کو الگ الگ خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا۔