سعودی سینٹرل بینک ’ساما‘ کے گورنر ایمن بن محمد السیاری نے کہا ہے کہ سعودی ریال کو امریکی ڈالر سے منسلک رکھنے کی پالیسی، جو نمایاں غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کی بدولت مضبوط ہے، نے مقامی سطح پر قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مملکت میں سالانہ اوسط افراطِ زر 3 فیصد سے کم رہا ہے۔
یہ بات انہوں نے ’عالمی غیر یقینی صورتحال کے بین الاقوامی مالی و زرِی نظاموں پر اثرات‘ کے عنوان سے منعقدہ مکالماتی نشست میں کہی ہے جو بین الاقوامی شخصیات کی شرکت سے العُلا کانفرنس برائے ابھرتی ہوئی معیشتیں 2026 کے ضمن میں منعقد ہے۔
السیاری نے وضاحت کی کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال میں اضافہ اب ایک ساختی رجحان بن چکا ہے، جو محض عارضی نہیں۔
اس کی وجوہ میں جیو سیاسی تقسیم، تیز رفتار تکنیکی تبدیلیاں، اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور غیر بینکی مالی ثالثی سرگرمیوں میں توسیع شامل ہیں، جن کے اثاثے عالمی مالیاتی اثاثوں کے حجم کے 50 فیصد سے تجاوز کر چکے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ جیو سیاسی کشیدگیاں، تجارتی تقسیم اور قرض کی بلند سطحیں، ابھرتی ہوئی معیشتوں میں پالیسی سازوں کے لیے سب سے بڑے اور مؤثر چیلنجز میں شامل ہیں۔
سعودی سینٹرل بینک کے گورنر نے کہا کہ مملکت کا تجربہ اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ مالی و زرِی استحکام کے تحفظ کے لیے وافر ذخائر کی دستیابی اور مربوط زرِی و مالی پالیسی فریم ورک اپنانا نہایت ضروری ہے۔