اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

نائب وزیرِ خارجہ کا دہشتگردی کے خلاف عالمی تعاون مضبوط بنانے پر زور

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: واس)

نائب وزیرِ خارجہ انجینئر ولید بن عبد الکریم الخریجی نے سرحد پار دہشت گردی کے تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون جاری رکھنے اور اسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے امن و استحکام کے حصول کے لیے اجتماعی عالمی عزم کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ بات انہوں نے دارالحکومت ریاض میں داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے سیاسی ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جو سعودی عرب کی میزبانی میں منعقد ہوا۔

اجلاس کی مشترکہ صدارت شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام باراک نے بھی کی۔

اپنے خطاب میں نائب وزیرِ خارجہ نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی 

عالمی برادری کے لیے براہِ راست اور سنجیدہ خطرہ ہے، جو معاشروں کے امن و استحکام کو متاثر کرتا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ و مسلسل عالمی کوششیں ناگزیر ہوچکی ہیں۔

saudi vice foreign minister waleed bin abdul karim 2
(فوٹو: واس)

انہوں نے کہا کہ عملی تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں، خصوصاً داعش حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے، اپنے طریقۂ کار بدلنے اور کمزور اداروں، طویل تنازعات اور کمزور انسانی حالات سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے خطرات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

ولید الخریجی نے عالمی اتحاد میں شام کی شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اتحاد کا 90واں رکن قرار دیا اور کہا کہ سعودی عرب شام کی حکومت کی ان مثبت کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو قومی وحدت، استحکام، امن اور سلامتی کے قیام کے لیے کی جا رہی ہیں تاکہ شامی عوام کی خواہشات کو پورا کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ شام اور عراق میں داعش کی موجودگی سیکیورٹی، انسانی اور سیاسی لحاظ سے چیلنجز کی حامل ہے۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات، مؤثر رابطہ کاری، شہریوں کے تحفظ اور ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو مستقبل کے خطرات کو روک سکیں۔

saudi vice foreign minister waleed bin abdul karim 3
(فوٹو: واس)

نائب وزیرِ خارجہ نے عراق کی جانب سے داعش کے خاتمے کے لیے کی جانے والی فیصلہ کن کوششوں اور عالمی اتحاد کے ساتھ اس کے قریبی تعاون کو سراہا۔

انہوں نے اس بات کا بھی خیر مقدم کیا کہ شام بعض حراستی مراکز اور بے گھر افراد کے کیمپوں کی ذمہ داری سنبھال رہا ہے، جہاں داعش کے جنگجو اور ان کے اہلِ خانہ موجود ہیں۔ اس حوالے سے سعودی عرب نے شام میں امن و استحکام کے لیے ہر مثبت اقدام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے شام کی جانب سے حکومت اور شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق جاری بیان کا بھی خیر مقدم کیا، جس کے تحت ایک جامع معاہدہ طے پایا ہے، جس میں خود انتظامیہ کے اداروں کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کی شق شامل ہے۔نائب وزیر خارجہ نے اسے خطے میں استحکام کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔