پبلک پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ نیٹ ورکنگ ذرائع کے ذریعے ذاتی زندگی کی حرمت کو پامال کرنا جرم ہے اور اس پر قانونی طور پر جواب دہی لازم ہے۔
قانون کے تحت پرائیویسی کے تحفظ اور ڈیجیٹل فضا میں ذاتی حقوق کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے واضح کیا ہے کہ کیمرے سے لیس موبائل فونز یا کسی بھی تکنیکی وسائل کا ناجائز استعمال، جیسے دوسروں کی تصاویر یا ویڈیوز بنانا یا بغیر قانونی جواز کے انہیں نشر کرنا، ان اعمال میں شامل ہے جو معلوماتی جرائم کے خلاف قانون کے تحت قابل سزا ہیں۔
پبلک پراسیکیوشن نے زور دیا کہ یہ احکام افراد کی پرائیویسی کے تحفظ، ڈیجیٹل سکیورٹی کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے قانونی استعمال کی ذمہ داری کو مضبوط کرنے کے لیے ہیں تاکہ معاشرے کی سلامتی اور ذاتی زندگی کے احترام کو یقینی بنایا جا سکے۔