اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

نیا کاروبار شروع کرنے کے لیے کتنا سرمایہ درکار ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes

کاروباری ماہر عائد اللغیصم نے نیا بزنس شروع کرنے کے خواہشمند افراد سے کہا ہے کہ کسی بھی نئے کاروباری منصوبے کو شروع کرنے کے لیے اس میں کل سرمایہ کا 40 فیصد سے زیادہ نہیں ڈالنا چاہیے۔ 

یہ اصول کاروبار میں مالی استحکام اور غیر متوقع حالات سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ ایف ایم کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مثال دے کر سمجھایا کہ اگر کسی شخص کے پاس ایک لاکھ ریال ہیں اور وہ کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ کل 40 ہزار ریال لگائے، باقی رقم 60 ہزار ریال رکھ چھوڑے۔

انہوں نے بتایا کہ مکمل دولت کو ایک ہی پروجیکٹ میں ڈالنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں روز نئے چیلنجز، معیشتی تبدیلی یا دیگر غیر متوقع عوامل کاروبار کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کا بچا ہوا حصہ ترقی، مارکیٹنگ اور ہنگامی حالات کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ کاروبار میں لچک اور توسیع کے مواقع موجود ہوں۔

65456456 2

کاروباری ماہر نے مزید وضاحت کی کہ سرمایہ کے باقی حصے کو تین اہم شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. ترقی اور اپ گریڈیشن: نئے آلات، ٹیکنالوجی یا سروس کی بہتری کے لیے۔

  2. مارکیٹنگ اور برانڈنگ: مارکیٹ میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے اور صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے۔

  3. ہنگامی حالات: مارکیٹ میں غیر متوقع تبدیلی یا نئے مقابلے کے لیے بروقت اقدامات کے لیے۔

hands documents for a brand or product and busine 2026 01 09 11 08 26 utc scaled

عايد اللغیصم نے زور دیا کہ ڈسپلن اور مسلسل ترقی کاروبار کی کامیابی کی کنجی ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ کاروباری حضرات کو صارفین کی بدلتی ترجیحات اور مارکیٹ کی رفتار کے مطابق اپنی مصنوعات اور خدمات میں بہتری لانا چاہئے۔

کاروباری ماہر نے اختتام پر نصیحت کی کہ چھوٹے اقدامات، منصوبہ بندی اور مالی محتاط رویہ طویل مدت میں کامیابی کی ضمانت ہیں۔