کاروباری ماہر عائد اللغیصم نے نیا بزنس شروع کرنے کے خواہشمند افراد سے کہا ہے کہ کسی بھی نئے کاروباری منصوبے کو شروع کرنے کے لیے اس میں کل سرمایہ کا 40 فیصد سے زیادہ نہیں ڈالنا چاہیے۔
یہ اصول کاروبار میں مالی استحکام اور غیر متوقع حالات سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ ایف ایم کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مثال دے کر سمجھایا کہ اگر کسی شخص کے پاس ایک لاکھ ریال ہیں اور وہ کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ کل 40 ہزار ریال لگائے، باقی رقم 60 ہزار ریال رکھ چھوڑے۔
انہوں نے بتایا کہ مکمل دولت کو ایک ہی پروجیکٹ میں ڈالنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں روز نئے چیلنجز، معیشتی تبدیلی یا دیگر غیر متوقع عوامل کاروبار کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کا بچا ہوا حصہ ترقی، مارکیٹنگ اور ہنگامی حالات کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ کاروبار میں لچک اور توسیع کے مواقع موجود ہوں۔
کاروباری ماہر نے مزید وضاحت کی کہ سرمایہ کے باقی حصے کو تین اہم شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
ترقی اور اپ گریڈیشن: نئے آلات، ٹیکنالوجی یا سروس کی بہتری کے لیے۔
مارکیٹنگ اور برانڈنگ: مارکیٹ میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے اور صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے۔
ہنگامی حالات: مارکیٹ میں غیر متوقع تبدیلی یا نئے مقابلے کے لیے بروقت اقدامات کے لیے۔
عايد اللغیصم نے زور دیا کہ ڈسپلن اور مسلسل ترقی کاروبار کی کامیابی کی کنجی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروباری حضرات کو صارفین کی بدلتی ترجیحات اور مارکیٹ کی رفتار کے مطابق اپنی مصنوعات اور خدمات میں بہتری لانا چاہئے۔
کاروباری ماہر نے اختتام پر نصیحت کی کہ چھوٹے اقدامات، منصوبہ بندی اور مالی محتاط رویہ طویل مدت میں کامیابی کی ضمانت ہیں۔