اقوامِ متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے مشاورتی گروپ کے سربراہ ڈاکٹر سعید البوطی نے کہا کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا خطہ سال 2025 کے دوران سیاحت کی شرحِ نمو کے لحاظ سے دنیا میں سرفہرست رہا ہے۔
اس نے کورونا وبا سے قبل کی سطحوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، ایسے وقت میں جب عالمی سیاحت مضبوط بحالی کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور تاریخی ترقی کے راستوں پر تقریباً مکمل طور پر واپس آچکی ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق ڈاکٹر البطوطی نے اقوامِ متحدہ کی سیاحتی تنظیم کے اشاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ نے سال 2025 میں تقریباً 99.8 ملین بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.3 فیصد اضافہ ہے جبکہ یہ شرح 2019 کے مقابلے میں 39 فیصد زیادہ رہی جس سے یہ خطہ بحالی اور نمو کے اعتبار سے عالمی سطح پر بہترین کارکردگی کا حامل ثابت ہوا۔
انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے خطے کے سیاحتی منظرنامے میں نمایاں برتری حاصل کی ہے جہاں سال 2025 کے دوران تقریباً 122 ملین سیاح آئے، جن میں 30 ملین بین الاقوامی اور 92 ملین مقامی سیاح شامل تھے۔
اس دوران سیاحتی اخراجات 300 ارب سعودی ریال (تقریباً 80 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئے، جس سے مملکت دنیا کے اہم ترین 10 سیاحتی مقامات میں شامل ہوگئی۔
ڈاکٹر البطوطی نے بتایا ہے کہ یہ شاندار کارکردگی سعودی عرب میں سیاحت کے شعبے میں آنے والی بڑی تبدیلی کی عکاس ہے، جسے ریڈ سی پروجیکٹ اور الدرعیہ جیسے بڑے منصوبوں، بنیادی ڈھانچے میں توسیع، فضائی شعبے، ہوائی اڈوں، اور زمینی و بحری سرحدی راستوں کی ترقی کی حمایت حاصل ہے اور یہ سب کچھ سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔